کراچی:
مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا، پورٹ قاسم پر دو جہاز لنگر انداز ہوگئے۔
مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان میں توانائی کی بحران کے حل کے لیے حکومت کی حکمت عملی کے اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں اور پاکستان کے لیے پیٹرول کی سپلائی تیزی سے بحال ہورہی ہے۔
خلیجی ممالک سے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات لے کر آنے والے تیل بردار جہاز پاکستان پہنچ کر پورٹ قاسم پر لنگ انداز ہوگئے۔
پورٹ قاسم انتظامیہ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ سے روانہ ہونے والا تیل بردار جہاز ایم ٹی نیو ایٹرو پاس پورٹ قاسم پہنچ گیا ہے، جو فوٹکو آئل ٹرمینل پر لنگر انداز ہوا۔ جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق دوسرا جہاز ایم ٹی اسپرس ٹو تقریباً 55 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر کل پورٹ قاسم پہنچے گا جبکہ تیسرا جہاز ایم ٹی سی کلپر 34 ہزار میٹرک ٹن خام تیل کے ساتھ 11 مارچ کو بندرگاہ پر لنگر انداز ہوگا۔
اس کے علاوہ فوٹکو ٹرمینل پر گیس آئل لے کر آنے والا بحری جہاز ٹورم دمینی بھی لنگر انداز ہے، جس سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں بہتری متوقع ہے۔
پورٹ قاسم حکام کا کہنا ہے کہ خام تیل لانے والے جہازوں میں سے ایک عمان سے بھی روانہ ہوا ہے اور آئندہ تین روز کے دوران خام تیل کے تین جہاز پورٹ قاسم پر پہنچ جائیں گے، جس سے ملک میں تیل کی سپلائی کی صورتحال مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔
پورٹ قاسم انتظامیہ کے مطابق تیسرا جہاز آج رات اور چوتھا بدھ کی دوپہر پاکستان پہنچے گا، چاروں جہازوں میں مجموعی طور پر تیل کی مقدار 1 لاکھ 75 ہزارمیٹرک ٹن سے زائد ہے۔
حکام ک مطابق اسٹریٹ آف ہرمز کو بائی پاس کرکے ریڈ سی و دیگر راستوں سے سعودی عرب، فجیرہ ، کویت اور سنگاپور سے تیل منگوایا گیا ہے۔
اوگرا ذرائع نے کہا کہ جہاز لنگر انداز ہونے کے بعد ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ تیس دن کا ہو جائے گا۔



