Recent News

Copyright © 2025 Indus OBServer. All Right Reserved.

ارنَب گوسوامی نے بھارتی فالس فلیگ بیانیہ بے نقاب کر دیا، حکومت اور سیکیورٹی اداروں پر سخت سوالات

Share It:


نئی دہلی: بھارتی میڈیا کے معروف اینکر ارنَب گوسوامی نے نئی دہلی دھماکے پر اپنی نشریات کے دوران پہلی بار بھارتی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر کھل کر سوالات اٹھا دیے، جس سے بی جے پی حکومت مشکل میں پڑ گئی۔

ریپبلک ٹی وی کے لائیو پروگرام میں ارنب گوسوامی نے کہا کہ "الفلاح یونیورسٹی سے صبح 7:40 پر نکلنے والی گاڑی کس طرح 60 کلومیٹر طے کر کے لال قلعہ پہنچی، کسی نے دیکھی کیوں نہیں؟” اینکر نے سوال اٹھایا کہ جب دہلی میں جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں تو پھر دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کیسے کسی چیک پوسٹ یا ناکے پر روکی نہیں گئی؟

انہوں نے مزید کہا کہ اگر دہلی پولیس اور انٹیلیجنس ادارے بروقت حرکت میں آ جاتے تو یہ سانحہ روکا جا سکتا تھا۔ ارنب کے ان بیانات پر سوشل میڈیا پر ہلچل مچ گئی اور بھارتی عوام نے ان کے کلپس وائرل کر دیے۔

دفاعی ماہرین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ارنب گوسوامی کو یہ کیسے علم تھا کہ دہلی پولیس کو مخصوص گاڑی روکنی چاہئے تھی؟ کیا وہ پہلے سے فالس فلیگ آپریشن سے واقف تھے؟

پروگرام کے دوران ارنب نے الفلاح یونیورسٹی انتظامیہ پر بھی سخت سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ “کیا اس ادارے میں سہولت کار سرگرم ہیں؟” لائیو شو میں موجود حکومتی ترجمان ارنب کے سوالات کا جواب دینے سے قاصر رہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ارنب گوسوامی، جو ہمیشہ ریاستی بیانیے کی تائید کرتے تھے، اب خود حکومت کی انٹیلیجنس ناکامی تسلیم کرنے پر مجبور نظر آ رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعہ بھارتی میڈیا کے فالس فلیگ بیانیے کی سب سے بڑی شکست ہے۔

 





Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Grid News

Latest Post

انڈس آبزرور ایک خودمختار ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین، مستند اور غیر جانبدار خبریں فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد سچائی پر مبنی صحافت کو فروغ دینا ہے تاکہ قارئین تک درست معلومات اور تجزیے بروقت پہنچ سکیں۔ ہم سیاست، بین الاقوامی امور، ایران۔اسرائیل جنگ، کاروبار، کھیل، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں پر خبریں فراہم کرتے ہیں۔ انڈس آبزرور سچائی کی آواز ہے جہاں ہر خبر ذمہ داری کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

سب سے زیادہ مقبول