Recent News

Copyright © 2025 Indus OBServer. All Right Reserved.

اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ پیر سے شروع ہونے کا امکان ہے؛ وائٹ ہاؤس

Share It:


وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی ممکنہ طور پر پیر سے شروع ہوجائے گی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ 72 گھنٹوں میں یرغمالیوں کی رہائی کا عمل شروع ہوجائے گا۔

حماس کے پاس اس وقت بھی 48 اسرائیلی یرغمالی ہیں جن میں سے 20 کے زندہ ہونے کا امکان ہے۔ بقیہ کی لاشیں حوالے کی جائیں گی۔

جس کے بدلے اسرائیل بھی 2 ہزار کے قریب فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا جن میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے حماس کے رہنما بھی شامل ہیں۔

حماس نے جن نمایاں افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے، اُن میں عبداللہ برغوثی اور مروان برغوثی بھی شامل ہیں جو حماس کے اعلیٰ کمانڈر ہیں اور اس وقت اسرائیلی جیل میں عمر قید کاٹ رہے ہیں۔

ان کے علاوہ حسن سلامہ، احمد سادات، ابراہیم حامد، عباس السید کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

جس کے جواب میں اسرائیل نے مروان برغوثی کی رہائی کرنے سے انکار کردیا جب کہ یحییٰ سنوار اور محمد سنوار کی لاشوں کی واپسی بھی مسترد کرچکا ہے۔

یاد رہے کہ مصر ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے پر ہونے والے مذاکرات پر اسرائیل اور حماس نے ابتدائی مرحلے پر دستخط کردیئے ہیں۔

اس ابتدائی مرحلے کے تحت غزہ میں چند روز کے لیے جنگ بندی کی جائے گی جس کے دوران امدادی سامان کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔

علاوہ ازیں 72 گھنٹوں کے دوران حماس تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو آزاد کردے گی جب کہ بدلے میں اسرائیل فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔

یاد رہے کہ حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس میں 1500 اسرائیلی مارے گئے تھے جب کہ 251 کو یرغمال بناکر غزہ لایا گیا تھا۔

اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ان 251 یرغمالیوں میں 32 بچے، 48 خواتین، 150 سے زائد بالغ مرد اور 20 سے زائد فوجی اہلکار شامل ہیں۔

نومبر 2023 میں پہلی جنگ بندی پر حماس نے 251 میں سے 105 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کردیا تھا جن میں 29 بچے، 40 خواتین اور 10 غیرملکی شامل تھے۔

اس کے بعد حماس کے پاس 146 اسرائیلی یرغمالی رہ گئے تھے جس کے بعد دسمبر 2023 سے فروری 2024 کے دوران مزید 25 یرغمالیوں کو رہا کیا گیا جن میں ضعیف اور غیرملکی شامل تھے۔

اب حماس کے پاس اب 121 یرغمالی تھے لیکن اس کے بعد جنگ بندی نہ ہوسکی اور گھمسان کی جنگ کے دوران تقریباً 18 یرغمالی مارے گئے۔ حماس کے بقول یہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے۔

اس وقت تک حماس کے پاس 103 یرغمالی بچے تھے لیکن جنوری 2025 سے اپریل کے دوران خفیہ مذاکرات کے ذریعے مزید 15 یرغمالیوں کو رہائی نصیب ہوئی۔

تاہم اسی دوران ہلاک ہونے والے اسرائیلی یرغمالیوں کی تعداد 28 ہوگئی اور حماس کے پاس 20 زندہ اور 28 یرغمالیوں کی لاشیں ہیں جن کی واپسی اس ہفتے ممکن ہے۔

اسی طرح 2014 میں حماس کے ساتھ جھڑپ میں مارے گئے اسرائیلی فوجی حدار گولڈن کی باقیات بھی معاہدے کے تحت واپس اسرائیل لائی جائے گی۔

 

 

 

 





Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Grid News

Latest Post

انڈس آبزرور ایک خودمختار ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین، مستند اور غیر جانبدار خبریں فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد سچائی پر مبنی صحافت کو فروغ دینا ہے تاکہ قارئین تک درست معلومات اور تجزیے بروقت پہنچ سکیں۔ ہم سیاست، بین الاقوامی امور، ایران۔اسرائیل جنگ، کاروبار، کھیل، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں پر خبریں فراہم کرتے ہیں۔ انڈس آبزرور سچائی کی آواز ہے جہاں ہر خبر ذمہ داری کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

سب سے زیادہ مقبول