Recent News

Copyright © 2025 Indus OBServer. All Right Reserved.

حکومت کی آئی ایم ایف سے سیلاب متاثرین کے بجلی بل تین ماہ کیلیے مؤخر کرنے کی درخواست

Share It:



اسلام آباد:

حکومت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے مکینوں کیلیے آئی ایم ایف سے بجلی کے بلوں میں ریلیف مانگ لیا، پاکستانی حکام عالمی ادارے سے متاثرہ علاقوں کے بجلی بل 3ماہ کیلیے موخر کرنے کی درخواست کرینگے  جیسا کہ 2022ء کے سیلاب کے دوران کیا گیا تھا۔

پاکستان کے 3دریائوں  میں حالیہ سیلاب سے اب تک لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں، 13لاکھ ایکڑرقبے پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔وزیراعظم شہبازشریف نے وزارت خزانہ کو بجلی کے بلوں میں ریلیف کیلیے عالمی ادارے کے ساتھ رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ وزارت خزانہ کے حکام نے جمعے کو اس ضمن میں آئی ایم ایف حکام کے ساتھ  ورچوئل میٹنگ کی  اور ان سے متاثرہ علاقوں کے مکینوں کے بجلی کے بل 3ماہ کیلیے موخرکرنے کی درخواست کی۔آئی ایم ایف نے نقصانات کا ڈیٹا مانگ لیا ہے  جو پاورڈویژن اسی ہفتے فراہم کردے گی۔

ذرائع کے مطابق اب تک لیسکو،گیپکو، فیسکو اور میپکو کے صارفین سیلاب سے متاثرہوئے ہیں تاہم سکھر الیکٹرک پاور کمپنی کے صارفین پر بھی سیلاب کا اثر پڑ سکتا ہے۔

وفاقی وزیرتوانائی سردار اویس لغاری نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ ان کیلئے فوری نوعیت کا معاملہ تو اگست کے بل ہیں جن کی ادائیگی اب واجب ہوچکی ہے۔ہم اس حوالے سے ڈیٹا اکٹھا کررہے ہیں جس کے بعد  معلوم ہوسکے گا کہ انہیں کتنی مالی ضروریات درپیش ہیں۔وزیراعظم صارفین پر بوجھ کم کرنا چاہتے ہیں،اس ضمن میں باقاعدہ اعلان جلد کردیا جائیگا۔

حکومت اس معاملے میں مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے ،ان میں ایک آپشن یہ بھی ہے کہ بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے متاثرہ لوگوں کو ریلیف فراہم کردیا جائے ۔لیکن اس کا فائدہ سبھی متاثرین کو نہیں ہوگا ،لہذا دوسرا آپشن یہ ہے کہ متاثرین کو فلڈ ریلیف پیکج دیا جائے ۔حالیہ سیلاب سے گجرات،گوجرانوالا، سیالکوٹ،نارووال ،قصور،مظفرگڑھ،ملتان اور بہاولپورکے اضلاع بری طرح متاثرہوئے ہیں جہاں ساڑھے 6 ہزار مویشی سیلابی پانی میں بہہ گئے ہیں،13لاکھ 20 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے ۔

لوگوں کو اس وقت حکومتی امداد کی سخت ضرورت ہے کیونکہ وہ اپنے گھربارکے ساتھ ذریعہ معاش سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔حکومت اس کیلئے پہلے ہی زرعی ایمرجنسی کا اعلان کرچکی ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ریلیف دیہی او رشہری دونوں طرح کے لوگوں تک پہنچنا چاہیے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب کی طرف سے ابھی تک 13لاکھ 20 ہزار ایکڑ  رقبے پر فصلوں کو ہونے والے نقصان کا   کلیم پیش نہیں کیا گیا۔پنجاب حکومت ابھی تک پانی اترنے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔وفاقی وزیرنیشنل فوڈ سکیورٹی رانا تنویرحسین کہ چکے ہیں کہ حکومت متاثرہ علاقوں کے زمینداروں کے مالی واجبات معاف کردے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ جونہی متاثرہ علاقوں کا سروے مکمل ہوگا فارمرزسپورٹ پیکج کا اعلان کردیا جائے گا۔نقصانات کے ابتدائی ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ سیلاب سے سب سے زیادہ نقصان گوجرانوالا ڈویژن کو ہوا ہے جو 18 فیصد ہے۔یہاں چاول کی فصل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف کا وفد اسی ماہ کے آخرمیں پاکستان آرہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ ان ملاقاتوں میں عالمی ادارے سے پرائمری بجٹ سرپلس اور صوبائی کیش سرپلس پرنظرثانی کی درخواست کرنے کا جائزہ لے رہی ہے ،وزارت خزانہ فارمرز سپورٹ پیکیج  پر بھی کام کررہی ہے۔





Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Grid News

Latest Post

انڈس آبزرور ایک خودمختار ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین، مستند اور غیر جانبدار خبریں فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد سچائی پر مبنی صحافت کو فروغ دینا ہے تاکہ قارئین تک درست معلومات اور تجزیے بروقت پہنچ سکیں۔ ہم سیاست، بین الاقوامی امور، ایران۔اسرائیل جنگ، کاروبار، کھیل، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں پر خبریں فراہم کرتے ہیں۔ انڈس آبزرور سچائی کی آواز ہے جہاں ہر خبر ذمہ داری کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

سب سے زیادہ مقبول