سندھ ہائی کورٹ نے نسلہ ٹاور کے الاٹیز کی اراضی کی نیلامی میں متنازع اضافی زمین شامل کرنے کی درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد کردی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ آفیشل اسائنی نے نسلہ ٹاور کی نیلامی کا اشتہار جاری کیا ہے جبکہ بلڈر نے 357 مربع گز اضافی زمین بھی حاصل کی تھی جسے نیلامی میں شامل نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ الاٹیز کو رقم اراضی کی نیلامی کے ذریعے دی جانی ہے۔
آفیشل اسائنی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نسلہ ٹاور کی مارکیٹ ویلیو ایک ارب ایک کروڑ 40 لاکھ روپے لگائی گئی ہے جبکہ نیلامی کا آغاز 81 کروڑ 12 لاکھ روپے سے ہوگا اور یہ عمل 4 ستمبر کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اعتراضات کا مقصد صرف نیلامی روکنا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اضافی اراضی کو نیلامی میں شامل کرنا سپریم کورٹ کے احکامات میں ترمیم کے مترادف ہوگا۔



