Recent News

Copyright © 2025 Indus OBServer. All Right Reserved.

عمومی وائرل انفیکشن بھی ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں

Share It:


حالیہ ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ عمومی وائرل انفیکشنز جیسے فلو بھی ہارٹ اٹیک کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔

1. جسم میں سوزش

جب جسم کسی وائرل انفیکشن سے لڑ رہا ہوتا ہے — جیسے فلو، کوروناوائرس یا حتیٰ کہ عام زکام تو مدافعتی نظام سرگرم ہو جاتا ہے۔ اس سے جسم میں سوزش بڑھتی ہے جو خون کی نالیوں کی دیواروں کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور atherosclerosis (نالیوں میں چکنائی جمنے) کے عمل کو تیز کر سکتی ہے۔

2. خون جمنے کا خطرہ

کچھ وائرل انفیکشن خون کو زیادہ گاڑھا بنا دیتے ہیں۔ اس سے خون میں لوتھڑے بننے کا امکان بڑھ جاتا ہے، جو اگر دل کی نالی بند کر دیں تو ہارٹ اٹیک ہو سکتا ہے۔

3. آکسیجن کی کمی

بعض وائرس سانس کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں جن سے جسم میں آکسیجن کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ دل کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے، اور اگر پہلے سے دل کی بیماری ہو تو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

4. دل کے پٹھوں پر براہِ راست اثر

کچھ وائرس دل کے پٹھوں پر براہِ راست حملہ کر سکتے ہیں، جسے myocarditis کہا جاتا ہے۔
یہ بھی دل کے افعال کو متاثر کر کے ہارٹ اٹیک جیسی علامات پیدا کر سکتا ہے۔





Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Grid News

Latest Post

انڈس آبزرور ایک خودمختار ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین، مستند اور غیر جانبدار خبریں فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد سچائی پر مبنی صحافت کو فروغ دینا ہے تاکہ قارئین تک درست معلومات اور تجزیے بروقت پہنچ سکیں۔ ہم سیاست، بین الاقوامی امور، ایران۔اسرائیل جنگ، کاروبار، کھیل، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں پر خبریں فراہم کرتے ہیں۔ انڈس آبزرور سچائی کی آواز ہے جہاں ہر خبر ذمہ داری کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

سب سے زیادہ مقبول