Recent News

Copyright © 2025 Indus OBServer. All Right Reserved.

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ریلوے پروجیکٹ پر کام جاری

Share It:


غزہ جنگ بندی کے بعد متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ’’امن ریلوے‘‘ پر کام میں تیزی آگئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ راہداری ایک عظیم ریلوے ٹریک کا حصہ ہے جس کے ذریعے دونوں ممالک کا دیگر ممالک تک رسائی بھی آسان ہوجائے گی۔

اس راہداری میں ریلوے کے ساتھ ساتھ کمیونی کیشن کیبلز، پائپ لائنز اور توانائی کی ترسیلی لائنیں بھی شامل ہوں گی۔

اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور اسرائیل کے درمیان ریلوے منصوبے پر تعمیراتی بڑے پیمانے پر اور نہایت تیز رفتاری سے جاری ہے۔

ریلوے ٹریک کے متعدد حصوں پر انفراسٹرکچر تیاری کے آخری مرحلے میں ہیں جب کہ کچھ بڑے حصے تعمیر ہوچکے ہیں۔

اس ریلوے ٹریک پر تیزی سے کام کی ایک وجہ یہ بھی بحیرہ احمر میں اسرائیل جانے والے جہازوں کو یمن میں حوثی نشانہ بنارہے ہیں۔

اس سے بچنے کے لیے اسرائیل نے ایک نیا روٹ مرتب کیا ہے۔ اب درآمدی اشیا بھارت کے مندرا پورٹ سے سمندر کے ذریعے متحدہ عرب امارات میں داخل ہوگا اور وہاں سے سعودی عرب اور اردن کے راستے بذریعہ ٹرک اسرائیلی بندرگاہ حیفہ پہنچے گا۔

اسرائیلی بندرگاہ سے ان درآمدی اشیا کو یورپ اور امریکا برآمد کیا جائے گا۔

اسرائیلی وزیرِ ٹرانسپورٹ میری ریگیو گزشتہ ہفتے وفد کے ہمراہ ایک خفیہ دورے پر ابوظہبی پہنچیں اور اسرائیلی وزارتِ ٹرانسپورٹ کی ایک تکنیکی ٹیم نے منصوبے کا معائنہ بھی کیا۔

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ یہ ہنگامی سفارتی کوششیں اس وقت تیز ہوئیں جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ فرانس اور ترکیہ ایک اور متبادل راہداری پر کام کر رہے ہیں جو اردن سے شام اور پھر لبنان کی بندرگاہ تک جائے گا۔

اگر ایسا ہوجاتا ہے تو اسرائیل مکمل طور پر اس منصوبے سے باہر ہو جائے گا اور اسرائیل کو بڑے پیمانے پر معاشی اور سیاسی لحاظ سے شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ کے دوران نیتن یاہو حکومت نے سیاسی رابطے منجمد کر دیے تھے لیکن امارات نے بھارت، سعودی عرب اور اردن کے ساتھ بغیر اسرائیل کا انتظار کیے منصوبے پر کام جاری رکھا۔

جس کے نتیجے میں ڈیزائن، راستے اور علاقائی معاہدوں پر کام بہت آگے بڑھ چکا ہے اور اب اسرائیل اس راہداری میں اپنی جگہ دوبارہ بنانے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہا ہے کیونکہ منصوبہ اب اس کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔

اسرائیلی اور اماراتی حکام نے ایک مشترکہ انتظامی ادارہ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے جو ٹرانزٹ، کنیکٹیویٹی اور ریلوے لائن کے باقی حصے کی تعمیر کی نگرانی کرے گا۔

اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس راہداری سے مستقبل میں جلدی خراب ہونے والی اشیا چند گھنٹوں میں اسرائیل پہنچ سکیں گی بشرطیکہ سعودی عرب اور یو اے ای اس کی اجازت دیں۔

واضح رہے کہ یہ منصوبہ دراصل امریکا نے 2018 میں تجویز کیا تھا اور بعد ازاں اسے India–Middle East–Europe Economic Corridor (IMEC) کا حصہ بنایا گیا۔

 





Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Grid News

Latest Post

انڈس آبزرور ایک خودمختار ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین، مستند اور غیر جانبدار خبریں فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد سچائی پر مبنی صحافت کو فروغ دینا ہے تاکہ قارئین تک درست معلومات اور تجزیے بروقت پہنچ سکیں۔ ہم سیاست، بین الاقوامی امور، ایران۔اسرائیل جنگ، کاروبار، کھیل، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں پر خبریں فراہم کرتے ہیں۔ انڈس آبزرور سچائی کی آواز ہے جہاں ہر خبر ذمہ داری کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

سب سے زیادہ مقبول