Recent News

Copyright © 2025 Indus OBServer. All Right Reserved.

میکرو اکنامک حالات بہتر ہونے کے باوجود بچت کی کم سطح جیسے بنیادی مسائل موجود ہیں، گورنر اسٹیٹ بینک

Share It:


گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ میکرو اکنامک حالات بہتر ہوئے ہیں لیکن ملک میں بچت کی کم سطح جیسے بنیادی مسائل برقرار ہیں، پاکستان میں بچت کی شرح جی ڈی پی کا صرف 7.4فیصد ہے جب کہ جنوبی ایشیا میں یہ شرح 27فیصد  ہے۔

یہ بات انہوں نے ’’بینکوں کے لیے کیپٹل مارکیٹوں کے امکانات ‘‘کے موضوع  پر منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے بینکاری شعبے کی سرگرمیوں کی تکمیل، اور طویل مدتی و پائیدار اقتصادی نمو کو سہارا دینے کے لیے ایسی کیپٹل مارکیٹوں کی اہمیت پر زور دیا  جو پوری طرح  تشکیل شدہ، گہری اور متنوع ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ میکرو اکنامک حالات بہتر ہوئے ہیں، مہنگائی کم ہو رہی ہے اور نمو بتدریج بحال ہو رہی ہے، لیکن ملک میں بچت کی کم سطح جیسے بنیادی مسائل برقرار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بچت کی شرح جی ڈی پی کا صرف 7.4فیصد ہے، جبکہ جنوبی ایشیا میں یہ شرح 27 فیصد  ہے، چنانچہ ملک کو  بیرونی قرضوں پر زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے، جو بیرونی کھاتے پر بار بار دباؤ  اور عروج و زوال کے چکر (boom-bust cycle) کا باعث بنتا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے قومی بچتوں کو متحرک کرکے نفع بخش سرمایہ کاری کی طرف انہیں منتقل کرنے میں بڑی کیپٹل مارکیٹوں کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ پوری طرح تشکیل شدہ، گہری اور متنوع کیپٹل مارکیٹوں کی ضرورت ہے جس کے ساتھ مستحکم بینکاری نظام بھی موجود ہو، تاکہ ملک کی پائیدار اقتصادی ترقی کو سہارا دیا جاسکے۔

گورنر نے اسٹیٹ بینک کی حالیہ اصلاحات پر روشنی ڈالی جن کا مقصد ملکی بانڈز کی مارکیٹ میں شمولیت کو بڑھانا  ہے۔

ان اصلاحات میں غیر بینک اداروں کی اسپیشل پرپز پرائمری ڈیلرز کے طور پر شمولیت اور انویسٹر پورٹ فولیو سیکورٹیز  اکاؤنٹس کی مائکرو فنانس بینکوں، سنٹرل ڈپازٹری کمپنی اور نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ تک توسیع شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات ڈجیٹل بینکاری صارفین کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع فراہم کرتی ہیں اور مارکیٹ کی وسیع تر تشکیل کی بنیاد ہیں۔

جمیل احمد  نے سرکاری  بانڈ کی مارکیٹ میں پیش رفت کے باوجود 8 کارپوریٹ قرضہ اور ایکویٹی مارکیٹوں کی سست روی پر تشویش کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ واجب الادا کارپوریٹ بانڈز  جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم ہیں جبکہ ثانوی بازار میں ان کی سرگرمیاں محدود ہیں اور غیر مالی شعبوں کی شمولیت بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

اسی طرح ایکویٹی مارکیٹ کی رسائی بھی محدود ہے، جہاں سرمایہ کاروں کے اکاؤنٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن ہم سر معیشتوں کے مقابلے میں خاصی کم ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ضابطہ کاروں، مالی اداروں، سرکاری اداروں اور سرمایہ کاروں کے مابین ہم آہنگ کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ مالی خواندگی کو فروغ دیا جا سکے، شمولیت کو بڑھایا جا سکے اور ایک شفاف، جدت پسند مارکیٹ ایکو سسٹم تشکیل دیا جاسکے۔





Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Grid News

Latest Post

انڈس آبزرور ایک خودمختار ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین، مستند اور غیر جانبدار خبریں فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد سچائی پر مبنی صحافت کو فروغ دینا ہے تاکہ قارئین تک درست معلومات اور تجزیے بروقت پہنچ سکیں۔ ہم سیاست، بین الاقوامی امور، ایران۔اسرائیل جنگ، کاروبار، کھیل، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں پر خبریں فراہم کرتے ہیں۔ انڈس آبزرور سچائی کی آواز ہے جہاں ہر خبر ذمہ داری کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

سب سے زیادہ مقبول