Recent News

Copyright © 2025 Indus OBServer. All Right Reserved.

نئے صوبے بنانے کیلئے قومی اسمبلی میں اتفاق رائے موجود ہے، بلاول بھٹو زرداری

Share It:



لاہور:

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 20 نئے صوبے بنانے سے پہلے جن نئے صوبوں پر اتفاق رائے ہے وہاں بنائیں۔

لاہور میں سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قومی اسمبلی میں نئے صوبے بنانے کے لیے اتفاق رائے موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ 20 صوبے بنانے سے پہلے جہاں نئے صوبے بنانے سے متعلق اتفاق رائے موجود ہے پہلے وہاں بنائیں، اس وقت ہماری اکثریت نہیں تھی جب نئے صوبے بنانے پر اتفاق ہوا تھا۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ جو ان کی اپنی تجاویز ہے اس پر عمل درآمد ہونا ہے تو فوری کریں، جو کام ہونا تھا وہ تو ہو ہی رہا ہے۔

ایک سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی خوبی رہی ہے کہ ہم جمہوری بھی رہے اور گورنر راج بھی لگائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی نے ایک صوبہ بنانے کیلئے قراردار پاس کی اور پنجاب سے بلدیاتی نظام پاس کروایا، اس کا سندھ سے موازنہ کریں تو سندھ کا زیادہ مضبوط بلدیاتی نظام ہے۔

انہوں نے کہا کہ مفاہمت ہی طریقہ ہے، جس سے ملک آگے بڑھے گا، مفاہمت ہوگی تو سب کو ایک ہونا پڑے گا تاکہ سیاسی استحکام بڑھے، اگر ایسے ماحول میں رہیں گے کہ ایک دوسرے سے بات نہ کرسکیں اور پھر ایک صوبے کے حالات خراب ہوں تو مسائل ہوں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عدم اعتماد ہم لے کر آئے پہلی بار اور ایک وزیراعظم کو گھر بھیجا، پی ٹی آئی کا رویہ مسلسل خراب رہا، اب بھی وہ اسی اینگل پر لگا ہوا ہے جس سے نہ صرف پی ٹی آئی کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ پورا سسٹم دباؤ میں آجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس صوبہ کی پی ٹی آئی کی ذمہ داری ہے وہاں ان کی حکومت ناکام ہوچکی ہے، اگر یہی حالات رہے تو پھر سیاسی مفاہمت کی طرف راستہ نہیں جاسکتا، پیپلز پارٹی جب قدم بڑھانے کے لیے تیار ہوتی ہے تو پھر دوسری طرف حالات خراب ہوجاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف سے کوٹ لکھپت ملنے بھی گیا باہر بھی نکلے لیکن پھر باہر نکل کر حملے کرنے لگ جاتے، ہضم نہیں ہوتا کسی کو، میں پنجاب میں آکر کسی کے خلاف نہیں بولتا مگر پھر بھی برداشت نہیں ہوتا، میں کہتا ہوں وہ اپنا سندھ میں گورنر لگا دیں وہ آئیں مگر وہ نہیں آتے، پنجاب میں ہم آتے ہیں مگر برداشت ہی نہیں ہوتا۔

بلاول بھٹو زرداری سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ عمران خان سے ملنے اڈیالہ جاسکتے ہیں، جس پر انہوں نے کہا کہ نوازشریف سے کوٹ لکھپت ملنے بھی گیا باہر بھی نکلے لیکن پھر باہر نکل کر حملے کرنے لگ جاتے، سیاسی جماعت سب کو ملنی چاہیے۔

گورنر ہاؤس لاہور میں بیوروچیفس کے ساتھ گفتگو میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک پارلیمنٹ سے دو آئینی ترامیم کافی ہیں اب مزید کی گنجائش نہیں ہے، آئین ایسی دستاویز نہیں کہ بار بار تبدیل کی جائے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر عوام ووٹ دیں گے تو وزیراعظم بنوں گا، جب ان سے پوچھا گیا کہ موجودہ حالات میں وزیراعظم بنیں گے، تو بلاول نے کانوں کو ہاتھ لگا لیے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں اتحادیوں کو بھی اسپیس لینی پڑتی ہے، پنجاب میں وزارتیں نہیں لیں گے۔





Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Grid News

Latest Post

انڈس آبزرور ایک خودمختار ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین، مستند اور غیر جانبدار خبریں فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد سچائی پر مبنی صحافت کو فروغ دینا ہے تاکہ قارئین تک درست معلومات اور تجزیے بروقت پہنچ سکیں۔ ہم سیاست، بین الاقوامی امور، ایران۔اسرائیل جنگ، کاروبار، کھیل، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں پر خبریں فراہم کرتے ہیں۔ انڈس آبزرور سچائی کی آواز ہے جہاں ہر خبر ذمہ داری کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

سب سے زیادہ مقبول