گورنر اسٹیٹ بیک جمیل احمد نے کہا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے سخت مانیٹری پالیسی کا معاہدہ ہے۔ برآمدات میں کمی کے باوجود معاشی صورتحال بہتر ہے۔
تفصیلات کے مطابق انہوں نے کہا کہ نئی کرنسی نوٹوں کی چھپائی کا کام کابینہ کی منظوری کے بعد ہوگا۔ قرضہ ستمبر2027 تک رول اوور ہوجائے گا جبکہ چھ ارب ڈالر قرض کی ادائیگی کردی، مزید چار سے ساڑھے چار ارب ڈالر کی ادائیگی رواں مالی سال کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لئے دو سال تک پالیسیز کا تسلسل جاری رہے گا۔ پاکستان کی معیشت استحکام کے بعد ترقی کی جانب گامزن ہے۔
گورنر اسٹیٹ بیک کا مزید کہنا تھا کہبرآمدات میں کمی اور درامدات میں اضافے کے باوجود معاشی بہتری ہے۔ تیس جون تک کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صفر سے ایک فیصد اور افراط زر پانچ سے سات فیصد رہے گا جبکہ ایس ایم ای سیکٹر کےلئے قرضوں کی فراہمی دگنی کر کے گیارہ کھرب روپے کردی۔
انہوں نے بتایا کہ غیرفعال قرضوں کا حجم سات سے آٹھ فیصد پر آگیا۔ ایکس چینج مارکیٹ میں خرابیوں کو دور کیا۔ ایک سو چھیاسٹھ میں سے ایک سو چالیس منی چینجرز کو بند کردیا گیا۔



