Recent News

Copyright © 2025 Indus OBServer. All Right Reserved.

کراچی کے گراؤنڈز من پسند افراد کو بانٹنے کا الزام

Share It:



کراچی:

کراچی سٹی اسپورٹس ایسوسی ایشن نے الزام عائد کیا ہے کہ من پسند افراد کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نام پر گراؤنڈز بانٹے جارہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار کراچی سٹی اسپورٹس ایسوسی ایشن کے صدر اسلم خان نے منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا، اس موقع پر سید سخاوت علی، تحسین کمال، منصور ساحر، عادل عباسی، اکرام اللہ خان و دیگر بھی موجود تھے۔

 اسلم خان نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے مطابق شہر کے تمام گراؤنڈز بلدیہ عظمیٰ کراچی  کے دائرہ اختیار میں ہیں لیکن  سیاسی بنیادوں پر کھیلوں کے میدانوں کی مبینہ بندر بانٹ کی جارہی ہے، میئر کراچی  قانون کے مطابق اپنی رٹ قائم کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں، اس سے شہر میں نوجوانوں پر کھیلوں کے دروازے بند ہونے کا اندیشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس مکمل طور پر ٹھیکیداری سسٹم کے تحت دے دیا گیا ہے، باغ ابن قاسم سمیت دیگر پارکس کو بھی کمرشل بنیاد پر کھیلوں کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، پارکس میں کھیلوں کی سرگرمیاں کسی صورت نہیں ہوسکتیں، قانون کے تحت پارکس یا گراؤنڈز کے استعمال کی حیثیت تبدیل کرنے کا اختیار سندھ کابینہ، وزیراعلیٰ، کے ایم سی کونسل، میئر کراچی سمیت کسی کے پاس نہیں۔

اسلم خان نے کہا کہ پارکس میں کھیلوں کی کمرشل سرگرمیاں کی جارہی ہیں، اپوزیشن بھی بوجوہ خاموش ہے، خاص طور پر کرکٹ گراونڈ تین شفٹوں میں چلاکر فی شفٹ 20 سے 25 ہزار روپے وصول کیے جارہے ہیں، رات کے اوقات میں ڈیزل کے علاؤہ صرف گراؤنڈ کا کرایہ 60 سے 70 ہزار روپے وصول جارہاہے۔

اسلم خان نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت محکمہ کھیل سندھ کی صورتحال بھی کچھ اچھی نہیں، محکمہ کھیل 80 فیصد دو اور 20 فیصد لو، ایونٹ کراؤ اور بل 100 فیصد کا جمع کراؤ کے تحت کام کررہا ہے، جعلی آڈٹ رپورٹ اور رسیدوں کے ذریعے فنڈز کی خورد برد جاری ہے، وزیر کھیل و امور نوجوانان سردار محمد بخش مہر  اچھی شہرت کے مالک ہیں، لیکن ان کی ناک کے نیچے یہ سب کچھ ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نمائشی گیمز کے نام پر لوٹ کھسوٹ جاری ہے، ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسرز اور وینڈرز کے ذریعے ایونٹس کروائے جارہے ہیں،  سندھ اسپورٹس پالیسی کے تحت محکمہ کھیل ایونٹ کا انعقاد متعلقہ ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر ہی کراسکتا ہے، محکمہ کھیل طویل عرصے سے اسپورٹس ایسوسی ایشن کو سالانہ گرانٹ نہیں دے رہا۔

اسلم خان نے کہا کہ آئین و قانون کے مطابق شہریوں کو کھیلوں کے لیے گراؤنڈز اور پارکس کی سہولت مفت فراہم کرنا سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ذمہ داری ہے، وزیراعلی سندھ، میئرکراچی و دیگر ذمہ داران  سے درخواست ہے کہ وہ ان معاملات کا فوری نوٹس لے کر قانون کی پاسداری کو ممکن بنائیں، بصورت دیگر انصاف کے لیے عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔





Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Grid News

Latest Post

انڈس آبزرور ایک خودمختار ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین، مستند اور غیر جانبدار خبریں فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد سچائی پر مبنی صحافت کو فروغ دینا ہے تاکہ قارئین تک درست معلومات اور تجزیے بروقت پہنچ سکیں۔ ہم سیاست، بین الاقوامی امور، ایران۔اسرائیل جنگ، کاروبار، کھیل، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں پر خبریں فراہم کرتے ہیں۔ انڈس آبزرور سچائی کی آواز ہے جہاں ہر خبر ذمہ داری کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

سب سے زیادہ مقبول