Recent News

Copyright © 2025 Indus OBServer. All Right Reserved.

یاسر عرفات کے بھتیجے کی مغربی کنارے واپسی، حماس کے سیاسی مستقبل کا نیا نقشہ تیار

Share It:


رام اللہ: فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے بھتیجے ناصر القدوہ چار سال بعد خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے مغربی کنارے واپس آ گئے ہیں۔ انہوں نے غزہ کے بعد امن کے قیام کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس میں حماس کو سیاسی جماعت میں تبدیل کرنے اور فلسطینی حکومت کی اصلاحات پر زور دیا گیا ہے۔

ناصر القدوہ نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی میں بدعنوانی کے خاتمے اور صدر محمود عباس کی جماعت فتح میں گہرے اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کا اعتماد بحال کرنا پہلا اور سب سے اہم قدم ہے۔

فلسطینی رہنما نے کہا کہ ’’ہم نے عوام کا اعتماد کھو دیا ہے اور جب تک اسے واپس نہیں لاتے، کوئی بھی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔‘‘

ناصر القدوہ 2021 میں فتح سے نکالے جانے کے بعد مغربی کنارے چھوڑ گئے تھے۔ انہوں نے اس وقت اپنی آزاد انتخابی فہرست بنائی تھی، جس پر محمود عباس نے ناراضی ظاہر کرتے ہوئے الیکشن ہی منسوخ کر دیا تھا۔ تاہم حال ہی میں صدر عباس نے انہیں عام معافی دے کر دوبارہ جماعت میں شامل کر لیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خان یونس میں پیدا ہونے والے ناصر القدوہ کے عرب ممالک سے تعلقات اور حماس سے رابطے انہیں غزہ کی آئندہ حکومت میں اہم کردار دے سکتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ بیان کے بعد غزہ کی مستقبل کی حکومت پر عالمی توجہ بڑھ گئی ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ میں ایک بین الاقوامی زیرِنگرانی تکنیکی حکومت قائم کی جائے گی، جس کے تحت نئی فلسطینی پولیس تعینات ہوگی۔

القدوہ کے مطابق، حماس کو اپنی انتظامی اور عسکری طاقت ایک نئے فلسطینی ادارے کے سپرد کرنی ہوگی، تاہم انہیں سیاسی کردار کی اجازت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حماس کے کارکنوں کو یقین دہانی کرائی جانی چاہیے کہ ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی اور انہیں سیاسی زندگی میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید تجویز دی کہ غزہ کے لیے ایک ’’کونسل آف کمشنرز‘‘ بنائی جائے جو فلسطینیوں کے زیرِانتظام ہو، البتہ بین الاقوامی نگرانی بھی قابلِ قبول ہے۔ ان کے مطابق غزہ کو فلسطینیوں کے ہاتھ میں رہنا چاہیے اور وہاں انتخابات کا انعقاد ضروری ہے۔

ناصر القدوہ نے کہا کہ فلسطینی اداروں میں کرپشن خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جسے ختم کیے بغیر کوئی بھی نظام کامیاب نہیں ہوگا۔

فلسطینی تجزیہ کار ہانی المصری نے کہا کہ القدوہ کا کردار اہم ہوسکتا ہے لیکن فلسطینی دھڑوں کے درمیان اتفاقِ رائے کے بغیر کوئی شخص اکیلا کامیاب نہیں ہوسکتا۔

 





Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Grid News

Latest Post

انڈس آبزرور ایک خودمختار ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین، مستند اور غیر جانبدار خبریں فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد سچائی پر مبنی صحافت کو فروغ دینا ہے تاکہ قارئین تک درست معلومات اور تجزیے بروقت پہنچ سکیں۔ ہم سیاست، بین الاقوامی امور، ایران۔اسرائیل جنگ، کاروبار، کھیل، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں پر خبریں فراہم کرتے ہیں۔ انڈس آبزرور سچائی کی آواز ہے جہاں ہر خبر ذمہ داری کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

سب سے زیادہ مقبول