میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں بیٹھ کر کراچی کے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے، اس لیے وفاق کو چاہیے کہ 20 ارب نہیں بلکہ 200 ارب فراہم کرے تاکہ شہر کی ترقی کے کام مقامی سطح پر کیے جا سکیں۔ میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن نہیں کہ اسلام آباد میں بیٹھا کوئی افسر کراچی میں کام سنبھالے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت کو ٹھیکیدار کی جانب سے 2 کروڑ روپے کا ہرجانہ نوٹس موصول ہوا ہے، جبکہ وہ خود 9 سال سے سڑک بنانے میں ناکام رہے۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی کے عوام نے ان کی نااہلی پر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ بی آر ٹی گرین لائن منصوبے پر بھی وقت مانگا گیا ہے کہ آخر کب مکمل ہوگا۔ میئر کراچی کا کہنا تھا کہ یہ قبول نہیں کہ گریڈ 19 یا 20 کا افسر مجھے بتائے کہ کس ٹھیکیدار کو نوٹس جائے گا، سوال یہ ہے کہ شہر ٹھیکیداروں کا ہے یا شہریوں کا؟ اگر ایسا ہے تو کیا میں رات کو آ کر آپ کے گھر کھدائی شروع کر سکتا ہوں؟



