میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے سوال اٹھایا ہے کہ پی آئی ڈی سی ایل کمپنی کا سربراہ آخر کون ہے؟ کسی کو اس کا علم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کے آئی ڈی سی ایل تھی، پھر ایس آئی ڈی سی ایل بنا دی گئی اور اب پی آئی ڈی سی ایل تشکیل دے دی گئی ہے، جبکہ کراچی کے لیے ایسی کمپنیوں کا قیام خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ کمپنی لاہور یا پشاور میں کام نہیں کر رہی تو پھر کراچی میں اسے کیوں لایا جا رہا ہے؟ میں چاہتا ہوں کہ میرے شہر کو اس کے اصل حقوق ملیں۔ عوام کو الیکٹرک بسوں کی نہیں بلکہ اپنے حالات میں بہتری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں غیر ضروری بیانات دینے سے گریز کیا جائے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔



