کراچی(پ ر) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئین کے تحفظ، پارلیمانی بالادستی اور اٹھارویں ترمیم سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں جے یو آئی سندھ کے جنرل سیکریٹری علامہ راشد محمود سومرو، قاری محمد عثمان، حافظ عبدالقیوم نعمانی، مولانا ناصر محمود سومرو اور مولانا سمیع الحق سواتی بھی موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں اٹھائیسویں ترمیم کے ذریعے اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی بازگشت پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور آئین کے چہرے کو مسخ کرنے کی ہر کوشش کا راستہ روکا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اکابرین نے قوم کو متفقہ آئین دیا جبکہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے آمریت کی باقیات اور سیاہی کو مزید ختم کیا گیا۔
سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ آئین ہی وفاق، صوبوں اور تمام قومیتوں کے حقوق کا ضامن ہے، اگر آئین کمزور ہوا تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت اور صوبائی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ قابل قبول نہیں ہوگا۔
ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اٹھارویں ترمیم وفاقی اکائیوں کے حقوق اور صوبائی خودمختاری کی ضمانت ہے جبکہ آئین سے مزید چھیڑ چھاڑ دراصل وفاق اور جمہوریت پر حملہ تصور ہوگی۔
دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئین، جمہوریت، پارلیمانی بالادستی اور عوامی حقوق کے تحفظ کیلئے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک کو آئین اور جمہوری اصولوں کے مطابق چلایا جائے۔


