سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی) کے محصولات میں فروری 2026 کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی) کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف عباس، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی اور چیئرمین ایس آر بی واصف میمن سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کو ایس آر بی کی محصولات کی کارکردگی اور وصولیوں میں اضافے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ کے مطابق فروری 2026 کے دوران محصولات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ طویل کوششوں کے بعد 9.5 ارب روپے کے واجبات کی ریکارڈ وصولی بھی ممکن ہوئی۔
وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ فروری 2026 میں ایس آر بی کی مجموعی وصولی 34.86 ارب روپے رہی جو فروری 2025 کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ سال فروری 2025 میں وصولی 24.664 ارب روپے تھی۔
بریفنگ کے مطابق جولائی سے فروری تک مجموعی وصولی 225.653 ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں وصولی 182.605 ارب روپے تھی، یوں رواں مالی سال جولائی تا فروری محصولات میں 24 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ ریونیو بورڈ کے قیام کے بعد سے صوبائی محصولات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2011-12 میں محصولات 25 ارب روپے تھے جو بڑھ کر مالی سال 2024-25 میں 306.6 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ مالی سال 2017-18 میں پہلی مرتبہ سالانہ وصولیاں 100 ارب روپے سے تجاوز کر گئیں جبکہ مالی سال 2024-25 میں 306.6 ارب روپے کی تاریخی وصولی ہوئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 29.5 فیصد زیادہ ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ سیلز ٹیکس آن سروسز سے 284.4 ارب روپے وصول کیے گئے جبکہ جون 2025 میں ایس آر بی کی تاریخ کی سب سے زیادہ ماہانہ وصولی 40.5 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔
محصولات میں نمایاں کردار ادا کرنے والے شعبوں میں بندرگاہ و ٹرمینلز، ٹیلی کمیونیکیشن اور بینکاری شامل ہیں۔ پورٹ، ایئرپورٹ اور ٹرمینل آپریٹرز سیکٹر سے 40.2 ارب روپے، ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر سے 24.2 ارب روپے جبکہ بینکاری سیکٹر سے 20.34 ارب روپے وصول کیے گئے۔ فرنچائز سروسز سے 17.53 ارب اور انشورنس سیکٹر سے 14.56 ارب روپے آمدن حاصل ہوئی۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ٹاپ ٹین سیکٹرز نے مجموعی طور پر 155.6 ارب روپے محصولات فراہم کیے جبکہ مزید 27 خدماتی شعبوں سے ایک ارب روپے سے زائد محصولات وصول کیے گئے۔ آئی ٹی اور سافٹ ویئر کنسلٹنسی سیکٹر میں 49 فیصد، گڈز ٹرانسپورٹیشن سیکٹر میں 50 فیصد اور انجینئرنگ کنسلٹنسی میں 44 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ فنڈز اور اثاثہ جات مینجمنٹ سیکٹر پہلی بار بڑے ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل ہوا اور اس شعبے سے 162 فیصد اضافے کے ساتھ 5.76 ارب روپے محصولات حاصل ہوئے۔
وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ حیدرآباد کمشنریٹ نے 20.9 ارب روپے جمع کیے جس میں 38 فیصد اضافہ ہوا جبکہ سکھر اور لاڑکانہ کمشنریٹس کی مشترکہ وصولی 11 ارب روپے رہی جس میں 41 فیصد اضافہ ہوا۔
چیئرمین ایس آر بی نے بتایا کہ آمدن میں اضافہ بہتر نگرانی، وصولی مہم اور ڈیجیٹل نظام کے باعث ممکن ہوا۔ مالی سال 2024-25 میں ودہولڈنگ ایجنٹس کے ذریعے 48.42 ارب روپے محصولات جمع ہوئے جبکہ گزشتہ سال یہ رقم 37.43 ارب روپے تھی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ فنانشل اکاؤنٹنگ اینڈ بجٹنگ سسٹم (FABS) اور SAP پلیٹ فارمز کے ذریعے ٹیکس کٹوتی کے نظام میں شفافیت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ سندھ ورکرز ویلفیئر فنڈ کی وصولیاں 22.25 ارب روپے تک پہنچ گئیں جو مقررہ ہدف سے زیادہ ہیں اور اس میں 55 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بریفنگ کے مطابق ایس آر بی میں انٹیلی جنس، انویسٹی گیشن اور پراسیکیوشن ونگ قائم کیا گیا ہے جبکہ ٹیکس فراڈ اور جعلی انوائس کے خلاف اسپیشل انفورسمنٹ یونٹ بھی تشکیل دیا گیا ہے۔ ایس آر بی پاکستان کی پہلی صوبائی ریونیو اتھارٹی ہے جس نے ایسا یونٹ قائم کیا ہے۔ آڈٹ سسٹم، ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور ای فائلنگ پلیٹ فارمز کو بھی مزید مضبوط بنایا گیا ہے جبکہ زرعی آمدنی ٹیکس کے لیے ای فائلنگ نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ ریونیو بورڈ کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 300 ارب روپے کی حد عبور کرنا بڑا سنگ میل ہے اور صوبائی آمدن میں اضافہ بہتر حکمرانی، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ خدمات کا شعبہ صوبائی معیشت کو مضبوط بنانے کی بڑی صلاحیت رکھتا ہے اور غیر دستاویزی سروس فراہم کرنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ٹیکس چوری کے خلاف سخت کارروائی، ڈیجیٹل اصلاحات تیز کرنے، ڈیٹا پر مبنی نگرانی کو فروغ دینے اور محکمہ خزانہ سمیت دیگر اداروں کے ساتھ تعاون مزید مضبوط بنانے کی ہدایت بھی کی۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں محصولات میں پائیدار اضافہ اور مالی استحکام کو یقینی بنایا جائے گا جبکہ حکومت کی ترجیح ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھائے بغیر محصولات میں اضافہ کرنا ہے۔



