Recent News

Copyright © 2025 Indus OBServer. All Right Reserved.

اگست میں ایف بی آر کا 65 ارب روپے کا ریونیو شارٹ فال

Share It:



اسلام آباد:

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اگست میں 65 ارب روپے کا ریونیو شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا، جس کی بڑی وجوہات بجلی کے قومی گرڈ سے کم استعمال، صنعتی پیداوار میں سست روی اور نفاذی اقدامات کی واپسی قرار دی گئی ہیں۔

ایف بی آر نے اگست میں 1.7 کھرب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 1.635 کھرب روپے اکٹھے کیے، جو عبوری اعداد و شمار کے مطابق ہے۔ اعلیٰ ایف بی آر افسر کے مطابق، حتمی اعداد و شمار آنے پر شارٹ فال 45 سے 50 ارب روپے تک رہنے کا امکان ہے،اگرچہ ریونیو میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 13 فیصد یعنی 190 ارب روپے کااضافہ ہوا، لیکن یہ رفتار مقررہ اہداف کیلیے ناکافی ثابت ہوئی۔

مالی سال کے ابتدائی مہینوں میں سست آغاز نے ایف بی آر کیلیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب گزشتہ سال بھی ایف بی آر نے سالانہ ہدف سے 1.2 کھرب روپے کم ریونیو حاصل کیا تھا، آئی ایم ایف ٹیم ستمبر کے تیسرے ہفتے میں پاکستان کا دورہ کرے گی تاکہ معاشی جائزہ لیا جا سکے، جس میں ایف بی آرکی موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی کارکردگی بھی زیر غور آئے گی، ایف بی آر اس تناظر میں  کمزور کڑی کے طور پر سامنے آیا ہے۔

ٹیکس حکام کے مطابق پچھلے مالی سال میں بجلی کے بلوں کے ذریعے 125 ارب روپے اکٹھے کیے گئے تھے، جو اس سال کم ہوکر 86 ارب روپے رہ گئے، جس سے شارٹ فال میں نمایاں اضافہ ہوا۔صنعتی شعبہ بھی سست روی کا شکار ہے جس سے ریونیو میں کمی آئی ہے، حکومت نے رواں مالی سال کیلیے 14.13 کھرب روپے کا سالانہ ہدف مقررکیا ہے، جس کیلیے 20 فیصد اضافہ درکار ہے۔

 ایف بی آر نے اس میں کامیابی کیلیے سخت اقدامات اور عدالتی مقدمات میں پھنسے ٹیکسزکی وصولی پر انحصار کیا تھا، تاہم گزشتہ ماہ بعض اقدامات، جیسے تاجروں کے بینک میں جمع کرائے گئے کیش کو بینکنگ ٹرانزیکشن کے طور پر قبول کرنا اور اثاثہ جات ظاہر کیے بغیر بڑی خریداری پر پابندی کے اطلاق میں تاخیر، واپس لے لیے گئے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ کے بعد پریس کانفرنس میں خبردار کیا تھا کہ اگر پارلیمنٹ نے نفاذی اقدامات کی منظوری نہ دی تو حکومت کو 400 سے 500 ارب روپے کے اضافی ریونیو اقدامات کرنے پڑیں گے۔ دوسری جانب دو ماہ میں انکم ٹیکس کی مد میں 695 ارب روپے اکٹھے کیے گئے،جو ہدف کے مطابق ہیں، جبکہ سیلز ٹیکس سے 625 ارب روپے حاصل ہوئے، جو ہدف سے 65 ارب روپے کم ہیں۔

فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 113 ارب روپے جمع ہوئے، مگر یہ بھی ہدف سے کچھ کم رہے۔کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی 200 ارب روپے تک جا پہنچی، جو ہدف سے زائد ہے۔ اگست میں ایف بی آر نے ماہانہ 951 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 887 ارب روپے جمع کیے، جو 12 فیصد اضافہ تو ظاہرکرتا ہے مگر حکام کے مطابق یہ رفتار قابل تشویش ہے۔





Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Grid News

Latest Post

انڈس آبزرور ایک خودمختار ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین، مستند اور غیر جانبدار خبریں فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد سچائی پر مبنی صحافت کو فروغ دینا ہے تاکہ قارئین تک درست معلومات اور تجزیے بروقت پہنچ سکیں۔ ہم سیاست، بین الاقوامی امور، ایران۔اسرائیل جنگ، کاروبار، کھیل، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں پر خبریں فراہم کرتے ہیں۔ انڈس آبزرور سچائی کی آواز ہے جہاں ہر خبر ذمہ داری کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

سب سے زیادہ مقبول