
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا واضح مؤقف ہے کہ مذاکرات صرف اُن سے ہوں گے جن کے پاس حقیقی اختیار ہے۔
لاہور میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اگر ہم سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو ہم اس کی سزا بھگتنے کو تیار ہیں، مگر جو بھی قصوروار ہے، اسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہماری نرمی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم ملک بھر میں اپنی تحریک کا آغاز کر رہے ہیں اور اگلے 90 دنوں میں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوں گے۔
علی امین گنڈاپور نے مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیں جعلی مینڈیٹ کا طعنہ دیتے ہیں، حالانکہ خود فارم 47 کے ذریعے کامیاب ہوئے ہیں۔ درحقیقت وہ آج بھی پس پردہ قوتوں سے رابطے میں ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی کو لاہور میں جلسے کی اجازت دی جائے تاکہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم دوسروں کی طے شدہ ٹائم لائن پر نہیں چل سکتے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہم پاکستانی عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہمارے خلاف ایک بار پھر فسطائی مہم شروع کر دی گئی ہے، ہمارا آئینی حق، یعنی احتجاج کا حق بھی چھینا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے خلاف کارروائیاں ابھی تک جاری ہیں، کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اتنا ظلم نہیں ہوا جتنا پی ٹی آئی کے ساتھ کیا گیا۔ بانی پی ٹی آئی پر نہ کوئی ٹھوس مقدمہ ہے اور نہ ہی کوئی الزام ثابت ہو سکا ہے۔

