بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کے مطابق جون کے آخر سے شروع ہونے والی مون سون بارشوں اور سیلاب نے پاکستان میں سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 200 سے زائد بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہو گئے ہیں۔
ادارے کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں حالیہ سیلاب سے تقریباً ڈھائی کروڑ بچے دو ہفتے گزرنے کے باوجود اسکول واپس نہیں جا سکے۔ صوبے میں پانچ سے 13 برس کے بچوں کے لیے قائم پرائمری اسکول، جو کُل اسکولوں کا تقریباً 70 فیصد ہیں، تاحال بند ہیں۔ خیبر پختونخوا میں بھی رواں ماہ شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ایک ہفتے تک تعلیمی ادارے بند رہے، جبکہ 674 اسکول یا تو مکمل تباہ ہو گئے یا بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ ’سیو دی چلڈرن‘ 1979 سے پاکستان میں فعال ہے اور بچوں کے حقوق اور تعلیم کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے۔



