Recent News

Copyright © 2025 Indus OBServer. All Right Reserved.

شام کے عبوری صدر روس پہنچ گئے؛ صدر پوٹن سے ملاقات

Share It:


شام کے عبوری صدر احمد الشرع روس کے سرکاری دورے پر ماسکو پہنچ گئے اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی صدر پیوٹن سے ملاقات میں شامی صدر نے یقین دہانی کرائی کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے تمام معاہدوں کا احترام کیا جائے گا۔

شامی صدر نے روسی ہم منصب سے گفتگو میں اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ وہ دونوں ممالک کے تعلقات کی نئی بنیادیں بھی طے کرنا چاہتے ہیں۔

روسی حکام نے بتایا کہ ملاقات میں شام میں روسی فوجی اڈوں حمییم ایئربیس اور طرطوس نیول بیس کے مستقبل پر گفتگو کی گئی۔

علاوہ ازیں شام میں قامیچلی کے علاقے میں موجود روسی فوجیوں اور ان اڈوں کو انسانی امداد کے لیے لاجسٹک مراکز کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

یہ بیان اس بات کا عندیہ ہے کہ شام میں بشار الاسد کے دور میں قائم کیے گئے روس کے دو بڑے فوجی اڈے موجودہ حکومت کے دور میں بھی محفوظ رہیں گے۔

صدر پیوٹن نے شام میں پارلیمانی انتخابات کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک میں استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے اور مشکل حالات کے باوجود یہ عمل مختلف سیاسی قوتوں کو قریب لانے میں مدد دے گا۔

اس ملاقات سے قبل ذرائع نے بتایا تھا کہ شامی وفد روس سے یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ وہ بشار الاسد کے حامی باقی ماندہ گروہوں کو دوبارہ مسلح نہیں کرے گا۔ ساتھ ہی شامی حکومت روسی تعاون سے فوج کی بحالی اور تعمیر نو چاہتی ہے۔

ذرائع کے مطابق شامی صدر روس سے معاشی رعایتیں بھی چاہتے ہیں جن میں رعایتی نرخوں پر گندم کی فراہمی اور جنگی نقصانات کا ازالہ شامل ہے۔ ساتھ ہی وہ جنوبی شام میں اسرائیلی دباؤ کے مقابلے میں روسی حمایت اور ممکنہ طور پر روسی فوجی پولیس کی دوبارہ تعیناتی کی درخواست بھی کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ احمد الشرع کی قیادت میں باغی گروہوں نے صدر بشار الاسد کے طویل اقتدار کا خاتمہ کرکے جنوری میں عبوری حکومت قائم کی گئی اور احمد الشرع کو صدر مقرر کیا گیا تھا۔

باغیوں کے اقتدار پر قبضے کے بعد اُس وقت کے صدر بشار الاسد اپنے اہل خانہ کے ہمراہ روس فرار ہوگئے تھے اور تاحال وہیں مقیم ہیں۔ 

احمد الشرع کا یہ روس کا یہ پہلا دورہ ہے جسے خاصا نازک تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ روس نے برسوں تک بشار الاسد کی حکومت کو عسکری مدد فراہم کی اور بغاوت کے بعد انھیں اہل خانہ سمیت پناہ بھی دی۔

اطلاعات کے مطابق احمد الشرع روس سے باضابطہ طور پر مطالبہ کر سکتے ہیں کہ بشار الاسد کو شام کے حوالے کیا جائے تاکہ ان پر شامی عوام کے خلاف مبینہ جرائم کا مقدمہ چلایا جا سکے۔ تاہم روس کے لیے یہ مطالبہ قبول کرنا مشکل سمجھا جا رہا ہے۔

کرملین نے واضح کیا کہ روسی اور شامی صدور کی اس تاریخی ملاقات کے بعد کسی مشترکہ پریس کانفرنس کا امکان نہیں ہے۔

 





Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Grid News

Latest Post

انڈس آبزرور ایک خودمختار ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین، مستند اور غیر جانبدار خبریں فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد سچائی پر مبنی صحافت کو فروغ دینا ہے تاکہ قارئین تک درست معلومات اور تجزیے بروقت پہنچ سکیں۔ ہم سیاست، بین الاقوامی امور، ایران۔اسرائیل جنگ، کاروبار، کھیل، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں پر خبریں فراہم کرتے ہیں۔ انڈس آبزرور سچائی کی آواز ہے جہاں ہر خبر ذمہ داری کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

سب سے زیادہ مقبول