Recent News

Copyright © 2025 Indus OBServer. All Right Reserved.

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، پاکستان کو توانائی بحران کا خدشہ

Share It:



کراچی:

امریکاو اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد عالمی توانائی کی ترسیل کے نظام کی کمزوری واضح ہو گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق قطر انرجی کی جانب سے اسپاٹ کارگوکی ترسیل روکنے اور ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز بندکرنے کی دھمکی کے باعث توانائی پر انحصارکرنیوالے ممالک کیلیے سنگین خطرات پیداہوگئے ہیں۔

آبنائے ہرمزدنیاکی اہم ترین بحری گزرگاہ ہے جہاں سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے،جو عالمی سمندری تجارت ہونیوالے تیل کا تقریباً 30 فیصد بنتاہے۔

پاکستان کیلیے یہ صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے،کیونکہ اس کی تقریباً 2 تہائی ایل این جی سپلائی اسی راستے سے آتی ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں ہر 10ڈالر اضافے سے پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں سالانہ ڈیڑھ سے 2ارب ڈالر تک اضافہ ہو سکتاہے۔

ماہرین کاکہناہے کہ صورتحال میں پاکستان کیلیے مقامی توانائی وسائل کی ترقی قومی ترجیح بن چکی ہے۔ تھرکے کوئلے کے ذخائر کو ملک کاسب سے اہم توانائی اثاثہ قراردیاجارہاہے،جن کے اندازاًذخائر 175 سے 186 ارب ٹن تک بتائے جاتے ہیں۔

مالی سال 2024-25 میں پاکستان کی مقامی کوئلہ پیداوار 19.1ملین ٹن تک پہنچ گئی،جو 2سال قبل تقریباً 12 ملین ٹن تھی۔رپورٹس کے مطابق 2026 کے آغاز تک تھرکے کوئلے سے بجلی پیداکرنے کی صلاحیت 3,300 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی بحران کے دوران فرنس آئل یاایل این جی سے پیداہونیوالی بجلی کی قیمت 50 روپے فی یونٹ تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ تھرکوئلے سے بجلی تقریباً 5 سے 8 روپے فی یونٹ میں پیداکی جاسکتی ہے۔

توانائی ماہرین کاکہناہے کہ پاکستان کا ری گیسیفائیڈ ایل این جی  پر بڑھتاانحصارماضی میں مہنگے معاہدوں اور شرائط کی وجہ سے مسائل پیداکرتارہاہے۔

موجودہ صورتحال میں سپلائی کی غیر یقینی صورتحال نے پالیسی کے خطرات کومزیدواضح کردیاہے،ماہرین تجویزدیتے ہیں کہ گیس پر چلنے والے پاور پلانٹس کو ثانوی حیثیت دی جائے اور محدودگیس کو برآمدی صنعتوں کیلیے مختص کیاجائے، تاکہ معیشت کوسہارامل سکے۔

ماہرین کے مطابق حکومت کوتوانائی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل تیزکرناہوگا۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی کشیدگی طویل ہوگئی تو بلندتیل قیمتیں پاکستان کیلیے مہنگائی،ٹیکس وصولیوں اورصنعتی پیداوار پر شدیددباؤڈال سکتی ہیں، ایسے میں تھرکوئلے سمیت مقامی توانائی ذرائع کوتیزی سے ترقی دینااور متبادل بندرگاہوں اور توانائی منصوبوں کوفعال کرنااہم تقاضابن چکاہے۔





Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Grid News

Latest Post

انڈس آبزرور ایک خودمختار ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین، مستند اور غیر جانبدار خبریں فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد سچائی پر مبنی صحافت کو فروغ دینا ہے تاکہ قارئین تک درست معلومات اور تجزیے بروقت پہنچ سکیں۔ ہم سیاست، بین الاقوامی امور، ایران۔اسرائیل جنگ، کاروبار، کھیل، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں پر خبریں فراہم کرتے ہیں۔ انڈس آبزرور سچائی کی آواز ہے جہاں ہر خبر ذمہ داری کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

سب سے زیادہ مقبول