انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے میچ کے بعد وراٹ کوہلی کی جانب سے آسٹریلوی بلے باز ٹریوس ہیڈ سے ہاتھ نہ ملانے پر سابق انڈین کرکٹرز اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
جمعے کی شب حیدر آباد میں کھیلے جانے والے میچ میں سن رائزز حیدر آباد اور رائل چیلنجرز بنگلور کی ٹیمیں آمنے سامنے تھیں۔ میچ کے دوران کوہلی اور ٹریوس ہیڈ کے درمیان اشاروں کا سلسلہ جاری تھا تاہم جب میچ ختم ہوا اور ٹریوس ہیڈ نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو کوہلی اُنھیں نظرانداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔
اس دوران کوہلی نے حیدر آباد سن رائزز کے پیٹ کمنز اور ابھیشیک شرما سے ہاتھ ملایا لیکن اُنھوں نے ٹریوس ہیڈ سے مصافحہ کرنے سے گریز کیا۔
سن رائزز حیدر آباد نے میچ جیتنے کے لیے رائل چیلنجرز بنگلور کو 256 رنز کا ہدف دیا تھا، تاہم رائل چیلنجرز 200 رنز بنا سکی۔ وراٹ کوہلی نے 11 گیندوں پر 15 رنز بنائے۔
واضح رہے کہ دونوں ٹیمیں پہلے ہی اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر چکے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ کھیل کے میدان میں ہینڈ شیک تنازع سامنے آیا ہو، اس سے قبل گذشتہ برس ایشیا کپ میں انڈین کرکٹ ٹیم نے پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا تھا جس پر دونوں ٹیموں کے درمیان تلخی بڑھ گئی تھی۔
’میدان میں کچھ ایسا ہوا جو کوہلی کو ناگوار گزرا‘
کوہلی اور ٹریوس ہیڈ کی اس نوک جھونک پر انڈیا کے ساتھ ساتھ پاکستانی صارفین اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔
سابق انڈین بولر ظہیر خان نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ لوگ کوہلی پر اتنی تنقید کیوں کر رہے ہیں، اُنھیں اندازہ ہی نہیں کہ آسٹریلوی کھلاڑی میدان میں کتنے برے انداز میں ’سلیجنگ‘ کرتے ہیں۔‘



