جہلم پولیس نے تصدیق کی ہے کہ مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کو ڈپٹی کمشنر کے حکم پر تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کرکے 30 دن کے لیے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق محمد علی مرزا کی اکیڈمی کو بھی سیل کر کے تالے لگا دیے گئے ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی اُس درخواست کی بنیاد پر کی گئی جو ڈسٹرکٹ پولیس افسر جہلم کو جمع کرائی گئی تھی۔ درخواست میں حالیہ انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا گیا کہ محمد علی مرزا کے کچھ بیانات نے مبینہ طور پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کیے ہیں، اور اسی بنیاد پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی۔
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ متنازعہ بیان سے متعلق معاملہ تاحال زیرِ تفتیش ہے، اور اگر دورانِ تفتیش محمد علی مرزا قصوروار ثابت ہوئے تو ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔



