کراچی (ویب ڈیسک): سندھ ہائی کورٹ نے سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) کے مقابلے کے امتحانات کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عبوری حکم (اسٹے آرڈر) میں 9 جون تک توسیع کر دی ہے۔ عدالت نے کمیشن کو تمام ریکارڈ سیل رکھنے اور کامیاب امیدواروں کو کیس میں فریق بنانے کا حکم دیا۔
سماعت کے دوران جسٹس سلیم جسر نے ریمارکس دیے کہ "میرٹ کی خلاف ورزی قتل سے بھی بڑا جرم ہے”، جبکہ جسٹس نثار احمد بھنبھرو نے کہا کہ پیپر چیک کرنے والے اسسٹنٹ پروفیسر سے یہاں مضمون لکھوایا جائے تو نتائج خود ہی واضح ہو جائیں گے۔
عدالت نے سوال اٹھایا کہ اگر 71 امیدواروں کا دوبارہ ٹیسٹ لیا جائے تو دیکھیں کتنے پاس ہوتے ہیں۔ سماعت کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ کمیشن امتحانات کے لیے دیگر ذرائع (آؤٹ سورسنگ) سے خدمات حاصل کرتا ہے۔ عدالت نے وفاقی پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے طریقہ کار سے متعلق ڈپٹی اٹارنی جنرل سے مدد طلب کرتے ہوئے سماعت 9 جون تک ملتوی کر دی۔



