سکھر (ویب ڈیسک): شکارپور کے کچے کے علاقے، تھانہ آباد ملانی محمود آباد کی حدود میں 9 سالہ معصوم بچی کی زبردستی کم عمری میں شادی کرانے کا انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے شادی رکوا دی۔ دوسری جانب، معصوم بچوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اور متعلقہ ادارے اس سنگین معاملے پر مکمل طور پر خاموش نظر آ رہے ہیں۔
ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق، غلام مصطفیٰ جتوئی کی 9 سالہ معصوم بیٹی مسمات حمیرہ کا نکاح زبردستی عبدالرب عرف سرویر جتوئی ولد دلجان جتوئی سے پڑھایا جا رہا تھا۔ بچی کے والدین نے اپنی سخت بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ علاقے کے شدید سماجی دباؤ اور پرانی رسم و رواج کے سامنے مجبور تھے، جس کی وجہ سے وہ اپنی معصوم بیٹی کے مستقبل کے بارے میں کوئی آزادانہ فیصلہ نہیں کر سکے۔
سماجی حلقوں کے مطابق کم عمری کی یہ شادی نہ صرف سندھ کے قانون کے تحت سنگین جرم ہے بلکہ انسانی حقوق کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے، جو معصوم بچوں کا مستقبل تباہ کر دیتی ہے۔
عوامی حلقوں نے حکومتِ سندھ، آئی جی سندھ، وومن پروٹیکشن سیل اور ایس ایچ او آباد ملانی محمود آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ معصوم بچی کی زندگی تحفظ فراہم کرنے کے لیے فوری قانونی کارروائی کی جائے اور نکاح پڑھانے و کرنے والے ملزمان کو گرفتار کیا جائے، ورنہ ایسے واقعات معاشرے کے لیے مزید خطرناک شکل اختیار کر لیں گے۔



