اسلام آباد (ویب ڈیسک): عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد پاکستان کا ہفتہ وار دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ہو گیا ہے، جس کے دوران آئندہ مالیاتی سال 2027ء کی بجٹ اسٹریٹجی، معاشی اصلاحات اور وفاقی و صوبائی سطح پر ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
آئی ایم ایف مشن کی سربراہ ایوا پیٹرووا نے بتایا کہ پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت انتہائی مثبت رہی، جس میں پاکستانی حکومت نے جی ڈی پی کا 2 فیصد پرائمری سرپلس ہدف حاصل کرنے کے عزم کو دہرایا ہے۔
دوسری جانب، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مہنگائی کی شرح کو کنٹرول کرنے کے لیے مانیٹری پالیسی کو سخت رکھنے اور انرجی (توانائی) کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پر نظر رکھنے کا یقین دلایا ہے۔
فنڈ کی جانب سے آئندہ مالیاتی سال کے لیے وفاقی ریونیو کا ہدف 17,145 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ صوبوں کو بھی زرعی، پراپرٹی اور سروسز ٹیکس کی بہتر وصولی کے ذریعے اپنا حصہ 400 ارب روپے بڑھانے کے لیے کہا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کا اگلا دورہ اب 2026ء کے دوسرے نصف (سہ ماہی/سمسٹر) میں ہوگا، جس میں معاشی پروگراموں کا جائزہ لیا جائے گا۔



