اسلام آباد/تہران (ویب ڈیسک): امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ بندی ختم ہونے کے خطرات کے پیشِ نظر پاکستان دونوں ممالک کو جنگ سے بچانے کے لیے سرگرم ہو گیا ہے۔
پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی ایک ہفتے کے اندر دوسری بار ایک اہم پیغام لے کر تہران پہنچے ہیں، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ سے ملاقاتیں کر کے مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کرنے پر غور کیا۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں ہیں، تاہم انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر مقررہ وقت میں معاہدہ نہ ہوا تو سخت فوجی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے جواب میں ایران نے تباہ کن جنگ کی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملہ کیا تو یہ جنگ صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ وہ جنگ سے بچنے کے لیے تیار ہیں اور ان کی طرف سے تمام راستے کھلے ہیں، لیکن ایران کو دباؤ کے ذریعے جھکایا نہیں جا سکتا۔
ادھر سعودی عرب نے پاکستان کی ان ثالثی کوششوں کی مکمل حمایت کی ہے۔ سعودی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ریاض کو امید ہے کہ ایران اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں امن کے لیے مثبت جواب دے گا۔ انہوں نے ڈپلومیسی (سفارت کاری) کو موقع دینے پر صدر ٹرمپ کے فیصلے کو بھی سراہا۔ اس کے ساتھ ہی ترکیہ کے صدر طیب اردگان نے بھی صدر ٹرمپ سے رابطہ کر کے جنگ بندی میں توسیع کا خیرمقدم کیا ہے۔



