Recent News

Copyright © 2025 Indus OBServer. All Right Reserved.

کراچی حیدرآباد موٹروے ایم9پر ٹول پلازوں کی زیادہ تعداد، اراکین اسمبلی کی این ایچ اے حکام پر تنقید 

Share It:


قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں کراچی سے حیدرآباد موٹر وے ایم 9 پر ٹول پلازوں کی حد سے زیادہ تعداد کا ایجنڈا زیرِ بحث آیا جب کہ کمیٹی اراکین نے این ایچ اے حکام پر کڑی تنقید کی۔

اعجاز حسین جکھرانی کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس 
ہوا، پاکستان پوسٹ آفس کے حکام نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ  دی۔

کمیٹی رکن ڈاکٹر درشن  نے استفسار کیا کہ پاکستان پوسٹ آفس کون سی جگہوں پر غیر فعال ہیں؟ حکام پوسٹ آفس  نے کہا کہ جو ہماری اپنی عمارت میں ڈاکخانہ ہوتا ہے، اسے ہم بند نہیں کرتے ہیں، اگر اسے بند کریں تو لوگ اس عمارت پر قابض ہو جاتے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی  نے کہا کہ میری بیٹی کا پاسپورٹ بذریعہ ڈاک بھیجا گیا،پاسپورٹ کا سسٹم شو کررہا تھا کہ آگیا ہے، لیکن مجھے پاسپورٹ ایک دن بعد موصول ہوا ہے، پاسپورٹ آفس میں جو خامیاں ہیں انہیں دور کیا جائے۔

اجلاس میں کراچی سے حیدرآباد موٹر وے ایم 9 پر ٹول پلازوں کی حد سے زیادہ تعداد کا ایجنڈا زیرِ بحث آیا،  کمیٹی ممبر وسیم حسین نے کہا کہ یہ تو کراچی اور حیدرآباد کے لوگوں کے ساتھ زیادتی ہے۔

وسیم حسین میرا کمیٹی میں آنے کا مقصد یہی ہے کہ اس مسئلہ کو حل کیا جائے، چیئرمین این ایچ اے اور دیگر افسران کی بات الگ الگ ہوتی ہے، میں چیئرمین این ایچ اے کے جواب سے بالکل مطمئن نہیں ہوں، این ایچ اے حکام غلط بیانی کمیٹی میں کررہے ہیں، اس کو ریکارڈ کا حصہ بنائیں۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ رپورٹ بنا کر اسپیکر کو بھیج دیں، پھر پارلیمنٹ کو اس معاملہ پر فیصلہ کرنے دیں۔

وسیم حسین  نے کہا کہ دو سے تین کلومیٹر کے اندر ٹول پلازہ لگایا گیا ہے، اس طرح کی کوئی مثال نہیں ملتی، میں حیدرآباد کی عوام اور ان کے رہائشیوں کی بات اور ان کی آواز اٹھا رہا ہوں۔

کمیٹی ممبر وسیم حسین نے چیئرمین این ایچ اے اور این ایچ اے افسران پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ  این ایچ اے حکام روایتی طور پر بیوروکریسی کی طرح کام کررہے ہیں، ہم عوامی نمائندے ہیں عوام کی بات کریں گے، این ایچ اے والے پارلیمانی نمائندوں کو کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں، میں اس سارے معاملہ پر استحقاق کمیٹی جاؤں گا، مجھے پتہ ہے کون سا آدمی کس کے ریفرنس سے آکر کرسیوں پر بیٹھتے ہیں۔

کمیٹی ممبر ابرار علی شاہ  نے کہا کہ میں ٹول پلازوں اور اس کے ذریعے لیے جانے والے ٹیکس کے حق میں ہی نہیں ہوں، این ایچ اے ٹول پلازوں سے ٹیکس تو لے لیتا ہے،لیکن سٹرکوں کی مرمت اور دیکھ بحال پر پیسہ نہیں لگایا جاتا۔

کمیٹی میں ٹول پلازہ ریشنلائزیشن اور ایکوئٹی بل 2025 کا ایجنڈا زیرِ بحث آیا، کمیٹی ممبر ابرار علی شاہ  نے کہا کہ فیصلہ یہ ہوا تھا کہ ٹول پلازے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر لگائے جائیں گے، ٹول پلازوں اور ان سے اکٹھے کیے گئے ٹیکس کے حق میں ہی نہیں ہوں۔

این ایچ اے حکام  نے کہا کہ این ایچ اے ٹول پلازے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر لگائے جاتے ہیں، سیکرٹری مواصلات  نے بتایا کہ ٹول پلازوں سے حاصل کی گئی رقم سٹرکوں کو فعال رکھنے پر خرچ کرتے ہیں، این ایچ اے کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے،این ایچ اے کا ریونیو ٹول ٹیکس کے ذریعے ہی چلتا ہے۔

چیئرمین کمیٹی  نے کہا کہ اس بل کے متن کے مطابق لوکل لوگوں کو ٹول ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے، قائمہ کمیٹی نے متعلقہ بل کو وزارت قانون و انصاف کو بھجوا دیا اور کہا کہ وزارت قانون و انصاف اور مواصلات 15 روز میں بل کو ویٹ کرکے قائمہ کمیٹی کو جمع کرائے۔





Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Grid News

Latest Post

انڈس آبزرور ایک خودمختار ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین، مستند اور غیر جانبدار خبریں فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد سچائی پر مبنی صحافت کو فروغ دینا ہے تاکہ قارئین تک درست معلومات اور تجزیے بروقت پہنچ سکیں۔ ہم سیاست، بین الاقوامی امور، ایران۔اسرائیل جنگ، کاروبار، کھیل، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں پر خبریں فراہم کرتے ہیں۔ انڈس آبزرور سچائی کی آواز ہے جہاں ہر خبر ذمہ داری کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

سب سے زیادہ مقبول