کراچی (ویب ڈیسک)سندھ اسمبلی میں پانی کی قلت کے معاملے پر شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جہاں اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی۔
ڈپٹی اسپیکر انتھونی نوید کی زیر صدارت اجلاس میں جیسے ہی وقفہ سوالات کا آغاز ہوا تو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ارکان نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر شور شرابہ شروع کردیا۔
احتجاج کے دوران “پانی دو، پانی دو” کے نعرے لگائے گئے جبکہ بعض ارکان اسپیکر ڈائس تک پہنچ گئے اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔
اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ اگر انہیں بات کرنے کی اجازت نہ دی گئی تو وہ کسی کو بھی بات نہیں کرنے دیں گے۔ پیپلز پارٹی کے رکن امداد پتافی نے کہا کہ اسپیکر کو بلیک میل نہیں ہونا چاہیے۔
صورتحال کشیدہ ہونے پر وقفہ سوالات مختصر کردیا گیا اور اپوزیشن لیڈر کو اظہار خیال کا موقع دیا گیا۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ اپوزیشن پانی کے مسئلے پر سیاست کر رہی ہے، اگر سنجیدہ بات کرنی ہے تو تحریک التوا پیش کی جائے۔
سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اظہار خیال کرتے ہوئے امریکا اور ایران مذاکرات کے تناظر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ دنیا کو جلد خوشخبری ملنے والی ہے۔
اجلاس میں مختلف توجہ دلاؤ نوٹسز پر وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
ایوان نے جیکب آباد میں گھر جلانے کے واقعے اور سنت سچو سترام کو خراج عقیدت پیش کرنے کی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرلیں، جبکہ انسٹی ٹیوٹ آف ری پروڈیکٹو ہیلتھ کراچی کے قیام کا بل بھی اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔ بعد ازاں قائم مقام گورنر سندھ کی جانب سے سندھ اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا گیا۔



