گمبٹ (ممتاز ميمڻ): گمبٹ کے قریب مبینہ طور پر قتل کر کے کمند کے کھیت میں لاش پھینکنے کے واقعے کو 15 دن گزرنے کے باوجود مقتول نوجوان صدام کلوہو کا قتل مقدمہ درج نہیں ہو سکا۔
ورثا، مقتول کی والدہ راضل خاتون اور بہن شبانہ کلوہو نے پولیس پر سستی اور ملزمان کی مبینہ معاونت کے الزامات عائد کرتے ہوئے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی خیرپور سے مقدمہ درج کر کے ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب ایس ایچ او گمبٹ کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش جاری ہے۔ لاش پرانی ہونے کے باعث میڈیکل رپورٹ سے موت کی وجہ واضح نہیں ہو سکی، تاہم کچھ مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ اصل ملزمان تک پہنچا جا سکے۔



