اسلام آباد (ویب ڈیسک): وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ بڑے شہروں میں فروغ پانے والا نائٹ پارٹی کلچر، منشیات کا استعمال اور اس کے بعد ہونے والے غیر محفوظ جنسی تعلقات ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کی اہم وجوہات ہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق و صحت کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نائٹ پارٹیوں میں ہونے والی سرگرمیاں تشویش ناک ہیں۔ ان کے مطابق منشیات کے استعمال کے بعد نوجوانوں میں غیر محفوظ جنسی رویے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں، جس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت آبادی میں اضافے پر قابو پانے اور تولیدی صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اس معاملے پر سنجیدہ ہیں اور متعلقہ وزرا پر مشتمل کمیٹی باقاعدگی سے کام کر رہی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ موجودہ این ایف سی ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم کا 82 فیصد حصہ آبادی کی بنیاد پر ہوتا ہے، جس سے صوبوں کو بالواسطہ طور پر آبادی بڑھانے کی ترغیب ملتی ہے، جبکہ پڑوسی ممالک میں یہ شرح تقریباً 17 فیصد ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں مانع حمل ادویات پر تمام ٹیکس ختم کر دیے گئے ہیں، جس سے ان کی دستیابی بڑھے گی اور سالانہ آبادی میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد تک کمی لانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 67 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، اس لیے آبادی پر قابو پانے اور تولیدی صحت سے متعلق مؤثر پالیسیوں پر عمل درآمد ناگزیر ہو چکا ہے۔



