واشنگٹن / تہران (ویب ڈیسک): امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی مزید خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق 13 جولائی کی رات ایران پر مسلسل پانچ گھنٹے تک فضائی حملے کیے گئے۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ حملوں میں ایران کے ساحلی علاقوں بوشہر، چابہار، جاسک، کنارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس میں موجود فوجی تنصیبات، میزائل اور ڈرون اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کے مطابق اس کارروائی میں جدید ہتھیار استعمال کیے گئے تاکہ ایران کی بحری حملوں کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔
امریکی فوج نے مزید دعویٰ کیا کہ مشرق وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی ہائی الرٹ پر موجود ہیں۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں کے دوران صوبہ خوزستان کے شہر امیدیہ میں چار افراد زخمی ہوئے، جبکہ قشم، ابو موسیٰ اور کیش جزائر پر بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ شمالی عراق کے اربیل کے قریب بھی ایک میزائل حملے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔
جوابی کارروائی میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے متحدہ عرب امارات کے دو تیل بردار سپر ٹینکروں پر میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق عمان کی سمندری حدود میں "مومباسا” اور "باہیہ” نامی دو جہازوں پر کروز میزائل لگنے سے دونوں میں آگ بھڑک اٹھی۔
یو اے ای کے مطابق حملے میں ایک بھارتی شہری ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے، جن میں چار بھارتی اور دو یوکرینی شہری شامل ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے اثاثوں کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ادھر ایران کا کہنا ہے کہ مذکورہ جہاز خبردار کیے جانے کے باوجود نہیں رکے اور نیویگیشن سسٹم بند کر کے عمان کی سمندری حدود سے گزر رہے تھے، جس کے باعث انہیں نشانہ بنایا گیا۔
ایران نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے بحرین میں قائم امریکی فوجی اڈے الجفیر پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا، جہاں اسلحہ گوداموں اور فوجی رہائش گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔


