واشنگٹن / تہران: امریکا اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
امریکی فوج نے ایران کے متعدد اہداف پر فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق فضائیہ اور بحریہ نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فوجی تنصیبات پر 100 سے زائد حملے کیے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں عالمی تجارتی جہازوں کے تحفظ اور ایران کی حملہ آور صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے کی گئیں۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ جوابی حملوں میں قطر، کویت، بحرین اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے بند کرنے کا اعلان بھی کیا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ جنگی صورتحال اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
برینٹ کروڈ کی قیمت بڑھ کر 79 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 74 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔



