واشنگٹن / تہران: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کرگئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بجلی گھروں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، جس پر ایران نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران معاہدے پر رضامند نہ ہوا تو آنے والے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے اور ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
ایرانی قیادت نے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا اور اسے اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ کویت نے اپنے چار فوجی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
کویتی وزارت دفاع کے مطابق ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو دفاعی نظام کے ذریعے ناکام بنایا گیا، تاہم ملبہ گرنے سے چار اہلکار زخمی ہوئے۔
ایرانی پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا، جس میں دفاعی صورتحال اور ممکنہ اقدامات پر غور کیا گیا۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی پر عالمی برادری میں تشویش پائی جارہی ہے، جبکہ عالمی تیل مارکیٹ پر بھی اثرات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔



