نیویارک / تہران (ویب ڈیسک) امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکی فضائیہ نے مسلسل نویں رات بھی ایران کے مختلف اہداف پر شدید بمباری کی ہے۔ دوسری جانب ایران نے اردن میں قائم امریکی فوجی اڈے پر میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس میں امریکی اڈے کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
تہران سے جاری سرکاری بیان کے مطابق، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اردن کے علاقے الازرق میں قائم ‘موفق سالٹی’ ایئر بیس کو بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ تہران انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں امریکی فوجی اڈے، وہاں موجود کمانڈ سینٹر اور کئی جنگی و ری فیولنگ طیاروں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بھی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جوابی کارروائیوں اور حملوں میں مزید تیزی لائی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایران پر یہ مسلسل نویں رات ہے جب فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ حملے ایرانی اشتعال انگیزیوں کے جواب میں فوری سزا کے طور پر کیے جا رہے ہیں تاکہ ایران کی جنگی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔ ان حملوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں تیل کی سپلائی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔



