واشنگٹن/تہران: (ویب ڈیسک) مشرق وسطیٰ اور آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کے درمیان بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز پر حملوں کی نئی لہر کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے جزیرہ کھرگ کے قریب ایرانی شیڈو نیٹ ورک سے وابستہ 5 آئل ٹینکرز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے جوابی کارروائی میں آبنائے ہرمز میں 10 سے زائد امریکی اور تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
جس کی وجہ سے برینٹ کروڈ کی قیمت 3.4 فیصد اضافے کے ساتھ 101.21 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 96 ڈالر فی بیرل تک گر گئی۔
توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی میں رکاوٹ عالمی افراط زر کے نئے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔



