Recent News

Copyright © 2025 Indus OBServer. All Right Reserved.

ادھیڑ عمری میں مصنوعی مٹھاس کا استعمال ذہنی صلاحیتوں میں کمی لاسکتا ہے

Share It:


حالیہ تحقیق سے یہ اشارے ملے ہیں کہ ادھیڑ عمری میں مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال دماغی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

کچھ مطالعات میں دیکھا گیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس دماغ کے اُن حصوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے جو سیکھنے اور یادداشت سے متعلق ہیں۔

یہ مٹھاس دماغ میں معمولی سوزش پیدا کرسکتی ہے جو وقت کے ساتھ اعصابی خلیات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

مصنوعی مٹھاس آنتوں کے جراثیمی توازن کو متاثر کرتی ہے، جس کا براہِ راست تعلق دماغی صحت اور نیوروٹرانسمیٹرز کی پیداوار سے ہے۔

کچھ رپورٹس کے مطابق یہ مٹھاس انسولین کے نظام کو بھی متاثر کرسکتی ہے، اور دماغ بھی گلوکوز پر انحصار کرتا ہے، اس لیے اس کا اثر ذہنی صلاحیتوں پر پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا مصنوعی مٹھاس کو روزانہ کی بنیاد پر زیادہ استعمال نہ کریں۔

کوشش کریں کہ قدرتی متبادل جیسے شہد، کھجور کا شربت یا اسٹیویا کا اعتدال سے استعمال کریں۔

متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور دماغی مشقیں (مثلاً مطالعہ، پہیلیاں، نیا ہنر سیکھنا) ذہنی صحت کو بہتر رکھنے میں مددگار ہیں۔





Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Grid News

Latest Post

انڈس آبزرور ایک خودمختار ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین، مستند اور غیر جانبدار خبریں فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد سچائی پر مبنی صحافت کو فروغ دینا ہے تاکہ قارئین تک درست معلومات اور تجزیے بروقت پہنچ سکیں۔ ہم سیاست، بین الاقوامی امور، ایران۔اسرائیل جنگ، کاروبار، کھیل، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں پر خبریں فراہم کرتے ہیں۔ انڈس آبزرور سچائی کی آواز ہے جہاں ہر خبر ذمہ داری کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

سب سے زیادہ مقبول