اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی میں مسطحہ ٹاور کو حماس کے مبینہ مرکز قرار دے کر تباہ کر دیا۔

[ad_1]

اسرائیلی وزیر دفاع نے دھمکی دی ہے کہ غزہ میں دوزخ کے دروازے کھول دیئے اور یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حماس یرغمالیوں کی رہائی اور ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہ ہو جائے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایک کثیر المنزلہ عمارت کو حماس کے زیر استعمال عسکری مرکز قرار دیتے ہوئے سیکندوں میں منہدم کردیا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے رہائشیوں کو عمارت خالی کرنے کے لیے چند منٹ دیے جس کے بعد مسطحہ ٹاور پر تین حملے کیے گئے۔

مقامی افراد نے الزام لگایا کہ ہزاروں بے گھر شہری پہلے ہی عارضی کیمپوں میں رہ رہے ہیں اور ان کے پاس محفوظ پناہ گاہ موجود نہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ عمارت کے زیرِ زمین خفیہ راستے اور کمانڈ سینٹر موجود تھے جسے فوجی کارروائیوں اور گھات لگا کر حملوں کے لیے استعمال کرتی تھی۔

اسرائیلی فوج کے بقول غزہ کے شمالی حصے میں اسلحہ کے ذخائر اور حماس کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ متعدد جنگجو مارے گئے۔

تاہم بیان میں حماس کے شہید جانبازوں کی تعداد نہیں بتائی گئی اور نہ ہی شناخت ظاہر کی گئی۔

قبل ازیں اسرائیلی فوج نے بتایا تھا کہ ایک اہم حماس رہنما ’’نورالدین دباغش‘‘ کو قتل کر دیا جو تنظیم کے مالیاتی نیٹ ورک کا انچارج اور جنگ کے دوران کروڑوں ڈالر حماس کو فراہم کرتے تھے۔

اسرائیلی کی ان تازہ کارروائیوں کے ساتھ ہی مصر نے ایک بار پھر متنبہ کیا کہ فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر جبری بے دخلی ناقابلِ قبول ہے۔

مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالاطی نے کہا کہ یہ نسل کشی ہے، لاکھوں بے گناہ شہریوں کو قتل کیا جا رہا ہے اور مصنوعی قحط مسلط کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو اپنی سرزمین سے بے دخل کرنا ’’قانونی، اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر ناقابلِ قبول ہے۔

 



[ad_2]

Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Proudly powered by WordPress | Theme : News Elementor by BlazeThemes