واشنگٹن / تہران / اسلام آباد (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی افواج نے ایران پر بڑے فضائی حملے کیے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی ایران کے گزشتہ حملوں میں امریکی فوجی اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے ردعمل میں کی گئی۔
روسی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ صدر ٹرمپ نے پینٹاگون کو ایران پر براہِ راست بمباری کے احکامات دیے، جس کے بعد ایران کے مختلف شہروں میں شدید دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
جواب میں ایران نے کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
روسی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکی میزائل دفاعی نظام کا توڑ تلاش کر لیا ہے، جس کے باعث وہ امریکی اہداف کو زیادہ درستگی سے نشانہ بنا رہا ہے۔
سعودی عرب نے ایران اور خطے میں امریکی حملوں کی شدید مذمت کی، جبکہ متحدہ عرب امارات نے شہری آبادیوں پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
یورپی یونین اور خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کسی بھی قسم کی پابندی یا فیس عائد کرنے کی مخالفت کی ہے۔
ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر دنیا بھر میں موجود اپنے شہریوں کے لیے ہائی الرٹ سفری ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ایرانی صدر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس مشکل وقت میں قومی اتحاد اور سپریم لیڈر کی قیادت ایران کا سب سے بڑا سرمایہ ہے اور ایران اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔


