بھریا سٹی (رپورٹر) نیو کراچی کے ایوب گوٹھ سے اپنے آبائی گاؤں آنے والی خاتون مسمات بابرا اپنی 3 سالہ معصوم بیٹی آئزل فاطمہ سمیت پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئی ہیں، جس کے بعد لواحقین نے انصاف اور تلاش کے لیے پریس کلب بھریا سٹی کے سامنے احتجاج کیا ہے۔
گوٹھ کوڑو مجیدانو کے رہائشیوں گل حسن مجیدانو، میر حسن مجیدانو اور مسمات شبیران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عید کے دوسرے دن جمعرات کو کراچی سے ان کے بہنوئی مختار راجپر نے اپنی اہلیہ مسمات بابرا اور دادی آئزل فاطمہ کو جمالی پل کراچی سے صبح 11 بجے کے قریب ‘جیو فرحان مسافر کوچ’ میں بٹھا کر گاؤں کے لیے روانہ کیا تھا، جو 3 دن گزرنے کے باوجود گھر نہیں پہنچیں۔
لواحقین نے مزید بتایا کہ ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت رشتہ داروں، کوچ کے عملے اور سکھر اڈے تک پوری کوشش کے ساتھ تلاش کیا ہے، لیکن ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ انہیں شک ہے کہ ان کی بہن کراچی سے آتے ہوئے کہیں غلطی سے اتر گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے، وہ غریب لوگ ہیں اور کراچی میں مزدوری کر کے گزر بسر کرتے ہیں۔
متاثرہ خاندان نے حکومتِ سندھ، آئی جی سندھ، ایس ایس پی نوشہرو فیروز، انسانی حقوق کی تنظیموں اور خدا ترس لوگوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ معصوم بچی اور ماں کی تلاش میں ان کی مدد کی جائے تاکہ اہلخانہ کی شدید بے چینی ختم ہو سکے۔



