کراچی : سندھ حکومت نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے ملزمان کی رہائی کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست دائر کردی۔
تفصیلات کے مطابق حکومتِ سندھ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان کی بریت اور رہائی کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان میں نظرثانی کی درخواست دائر کر دی۔
درخواست پراسیکیوٹر جنرل سندھ شبیر شاہ کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی استدعا کرتے ہوئے کئی اہم آئینی اور قانونی نکات اٹھائے گئے ہیں۔
اپیل میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا حقائق اور قانون کے مابین متصادم فیصلے کے خلاف آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 188 لاگو نہیں ہوتا؟ زیرِ نظر فیصلہ جائے وقوعہ پر موجود چشم دید گواہوں، طبی رپورٹوں اور دیگر ٹھوس دستاویزی شواہد کو نظر انداز کرنے کی خامی کا شکار ہے۔
درخواست میں اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ فیصلے میں فیکٹری کے جھلس کر بچ جانے والے زخمی گواہوں کے بیانات اور کیمیکل سے آگ لگانے والے ماہرین کی رپورٹس کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔
اپیل میں قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 17 (گواہوں کی تعداد اور قابلیت) اور آرٹیکل 4 کے اطلاق پر بھی سخت قانونی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔
سندھ حکومت نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مجرموں کی بریت پر سوال اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ فیکٹری میں جل کر خاک ہو جانے والے اڑھائی سو سے زائد مزدوروں کے قانونی ورثاء کیا اس بریت پر اعتراض اٹھانے کا حق نہیں رکھتے؟
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے انسدادِ دہشت گردی عدالت اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ایم کیو ایم کے سابق کارکنان رحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کی اپیلیں منظور کی تھیں اور انہیں شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا تھا۔



