بدین جنکشن کی بحالی کے لیے بدین، ماتلی، ٹنڈو محمد خان، تلہار، نورائی شریف، کتھڑ اور ملحقہ علاقوں کے لاکھوں شہریوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہونے کی امید ایک بار پھر پیدا ہوگئی ہے۔پاکستان ریلوے کراچی ڈویڑن کے ڈویڑنل سپرنٹنڈنٹ جمشید عالم نے بدین سیکشن کا تفصیلی دورہ کرکے مختلف ریلوے اسٹیشنوں، ٹریک، عمارات اور دیگر تنصیبات کا جائزہ لیا۔
انہوں نے متعلقہ افسران کو ریلوے املاک، اسٹیشن عمارات اور ٹریک کی مناسب دیکھ بھال، صفائی اور ضروری مرمتی امور پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایات جاری کیں۔دورے کے دوران ریلوے اراضی پر تجاوزات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈویڑنل سپرنٹنڈنٹ نے ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ کو ریلوے اراضی پر موجود تجاوزات کی نشاندہی کرکے متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی اور قیمتی زمین کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
بدین جنکشن ماضی میں زیریں سندھ کے وسیع علاقے کے عوام کے لیے سستی سفری سہولت، تجارتی سرگرمیوں اور آمدورفت کا اہم ذریعہ رہا ہے۔ بدین چھاؤنی کے باعث اس کی دفاعی اور تزویراتی اہمیت بھی رہی ہے جبکہ ماضی میں فوجی اہلکاروں اور دفاعی سازوسامان کی نقل و حرکت کے لیے بھی ریلوے رابطہ استعمال کیے جانے کا ذکر ملتا ہے۔دوسری جانب تھر میں کوئلے کے وسیع منصوبوں اور ان سے وابستہ صنعتی سرگرمیوں میں اضافے کے بعد مستقبل میں کوئلے اور دیگر سامان کی بڑے پیمانے پر نقل و حمل کے لیے ریلوے کے استعمال کے امکانات بھی موجود ہیں، جس سے بدین ریلوے سیکشن کی بحالی کی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور پاکستان ریلوے بدین جنکشن کے ٹریک، اسٹیشنوں اور دیگر اثاثوں کی بحالی کے لیے عملی پیش رفت کریں تو ریلوے کا قومی اثاثہ دوبارہ فعال ہونے کے ساتھ لاکھوں شہریوں کو کم خرچ سفری سہولت اور کاروباری و تجارتی سرگرمیوں کے لیے بہتر رابطہ میسر آسکتا ہے۔تاہم بدین سیکشن کی باقاعدہ بحالی، ٹرین سروس کے دوبارہ آغاز اور شیڈول کے بارے میں حتمی صورتحال پاکستان ریلوے کے باضابطہ اعلان کے بعد ہی واضح ہوگی۔



