کراچی (ویب ڈیسک) کراچی میں 10 سالہ بچی کو پیسوں کا بنڈل دے کر ٹرک میں بٹھانے کی کوشش کی گئی۔ ایسا واقعہ سماجی ذہنیت اور بچوں کے تحفظ کے نظام پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ خوش قسمتی سے ٹریفک پولیس اہلکاروں کی بروقت کارروائی سے لڑکی کی جان بچ گئی اور ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس کے مطابق لڑکی معمول کے مطابق گھر سے کچرا اٹھانے نکلی تھی جہاں ٹرک ڈرائیور نے اسے 2 ہزار روپے کا لالچ دے کر گاڑی میں بٹھا دیا۔ لڑکی کی شکایت پر ٹریفک پولیس اہلکاروں نے ٹرک کا تعاقب کیا اور گاڑی کو روک کر تلاشی لی، اس دوران لڑکی ڈیش بورڈ کے نیچے بنی جگہ سے برآمد ہوئی۔
اس واقعے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ بچے اکثر ایسے لوگوں کا آسان نشانہ بن سکتے ہیں جو غربت، جہالت یا والدین کی مصروفیت کی وجہ سے ان کی معصومیت اور ضرورت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو بچپن سے ہی ایسی ذہنی تربیت دی جائے کہ وہ انجان لوگوں کے لالچ، جھوٹے وعدوں اور دباؤ کا شکار نہ ہوں۔
بچوں کو سکھایا جائے کہ اگر کوئی انجان شخص ان سے پیسے، تحائف، کھانا یا کسی اور بہانے سے اپنے ساتھ جانے کو کہے تو وہ فوراً انکار کر دیں اور کسی قابل اعتماد بالغ کو اطلاع دیں۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ کھل کر بات کریں اور ان کی روزمرہ کی حرکات و سکنات پر نظر رکھیں۔
اس واقعہ میں ٹریفک پولیس کی بروقت مداخلت سے ایک معصوم بچے کی جان اور عزت بچ گئی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ، والدین، اسکول اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مستقل بنیادوں پر ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کتنے تیار ہیں؟ بچوں کا تحفظ صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔



