یورپی یونین کی اعلیٰ ترین نمائندہ برائے خارجہ امور کایا کالاس کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے کی بڑی طاقت اور یورپی یونین کا شراکت دار ہے۔
یورپی یونین کی اعلیٰ ترین نمائندہ کایا کالاس کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کہنا تھا ہم پچھلے سال انڈیا پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طورپراسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں، ہم نے سکیورٹی ایشوز اور دہشتگردی کے امور پر بھی بات کی، ہم نے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی۔
نائب وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے، پاکستان اوریورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا ہے، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اوریورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کیلیے فائدہ مند ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کویورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا، پاکستان خطے میں امن،سفارتکاری اورتنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
ان کا کہنا تھا مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، سندھ طاس معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سرزمین سے دہشتگرد عناصرکی پاکستان میں کارروائیاں بدستورہماری بڑی تشویش ہیں۔
یورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس کا کہنا تھا پاکستان خطے کی بڑی طاقت اور یورپی یونین کا شراکت دار ہے، پاکستان کوبین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے اوراپنے عوام کے دفاع کا حق حاصل ہے، پاک بھارت کشیدگی کے سنگین نتائج برآمد ہوئے، صورتحال مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتی تھی، لیکن یورپی یونین نے مسلسل دونوں ممالک پرتحمل اورکشیدگی میں کمی پرزور دیا، موجودہ صورتحال میں فضائی حملوں کے بجائے مذاکرات ہی بہترین راستہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید آگے بڑھانے کی منتظر ہوں، پاکستان خطے کی ایک اہم طاقت اور یورپی یونین کا اہم شراکت دار ہے، پاکستان اوریورپی یونین نے اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے جو امریکا اورچین سے بھی بڑی ہے۔
ان کا کہنا تھا جی ایس پی پلس کے تحت مراعات کا تسلسل بین الاقوامی کنونشنز پر عملدرآمد سے مشروط ہے، یورپی یونین پاکستان سے گورننس،ماحولیاتی تحفظ،انسانی اور مزدورحقوق کے شعبوں میں مزید پیشرفت کی توقع رکھتی ہے، پاکستان اوریورپی یونین کے درمیان موسمیاتی تبدیلی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون جاری ہے۔
کایا کالاس کا کہنا تھا پاکستان مسلسل پانچویں سال ایراسمس پلس اسکالرشپس حاصل کرنے والے ممالک میں سرفہرست رہا جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں پاکستان نے اہم سفارتی کردار ادا کیا، پاکستان کی امن اور استحکام کے لیے کوششوں کو یورپ بھر میں سراہا جاتا ہے، یورپی یونین مشرق وسطیٰ میں پائیدار اور پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔



