کراچی: (ویب ڈیسک) جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں گزشتہ 2 روز کے دوران ریبیز (ایک خطرناک کتے کے کاٹنے کی بیماری) سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں سانگھڑ کا ایک 11 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ رواں سال سندھ میں ریبیز سے ہونے والی اموات کی تعداد 25 ہوگئی ہے۔
جے پی ایم سی میں جاں بحق ہونے والے بچے کو 4 ماہ قبل سانگھڑ میں کتے نے کاٹا تھا جب کہ کراچی کے علاقے قیوم آباد سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ نوجوان نے 2 ماہ قبل کتے کے کاٹنے کے بعد کوئی علاج نہیں کروایا اور اسپتال پہنچنے کے چند گھنٹوں میں ہی دم توڑ گیا۔
اس سال جے پی ایم سی میں ریبیز کے آٹھ کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جن میں سے سبھی موت کے منہ میں چلے گئے یا ڈاکٹروں کے مشورے کے خلاف ہسپتال سے ڈسچارج کر دیے گئے۔ ہسپتال کے مطابق، علامات ظاہر ہونے پر ریبیز تقریباً 100 فیصد مہلک ہو سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے 20 اگست تک کتے کے کاٹنے کے 8,856 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ فالو اپ ویکسین کی 14,704 خوراکیں دی گئیں۔
انڈس ہسپتال میں بھی اس سال کتے کے کاٹنے کے 13000 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
اسپتال کے مطابق ماہرین سے مشاورت کے لیے سندھ کے مختلف علاقوں سے ریبیز کے 4 کیسز اسپتال لائے گئے جب کہ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی 30 سالہ خاتون ریبیز کے آخری مرحلے میں انڈس اسپتال میں زیر علاج ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کتے کے کاٹنے یا معمولی چوٹ لگنے کے بعد بھی فوری طور پر زخم کو صاف کرنا، ریبیز کی ویکسین اور ضرورت پڑنے پر ریبیز امیونوگلوبلین لینا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جانوں کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ کتوں کی آبادی کو انسانی طریقے سے کنٹرول کیا جائے اور ہسپتالوں میں بروقت علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں۔



