Recent News

Copyright © 2025 Indus OBServer. All Right Reserved.

جسم آئرن کی مقدار اگر زیادہ ہوجائے تو کیا خطرہ لاحق ہوتا ہے؟

Share It:

[ad_1]

جسم میں آئرن کی مقدار اگر زیادہ ہو جائے تو اسے آئرن اوورلوڈ یا ہیماکرومیٹوسس (Hemochromatosis) کہا جاتا ہے۔

آئرن کی زیادہ مقدار کی وجہ یا تو جینیاتی بیماری ہو سکتی ہے یا پھر زیادہ خون کی منتقلی/آئرن سپلیمنٹس کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔

زیادہ آئرن سے درج ذیل خطرات لاحق ہوتے ہیں

جگر کے مسائل

جگر میں آئرن جمع ہوکر فیٹی لیور، جگر کا بڑھ جانا، یا جگر کا کینسر پیدا کر سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ سروسس (cirrhosis) بھی ہو سکتا ہے۔

دل کے مسائل

آئرن کی زیادتی دل کے پٹھوں میں جمع ہوکر ہارٹ فیلئر، بے ترتیب دھڑکن (Arrhythmia) یا کارڈیومایوپیتھی کا باعث بن سکتی ہے۔

ذیابیطس

لبلبہ میں آئرن جمع ہونے سے انسولین بننے کا عمل متاثر ہو جاتا ہے، جس سے ٹائپ 2 ذیابیطس ہو سکتی ہے۔

ہارمونی اثرات

پٹیوٹری گلینڈ متاثر ہو کر بانجھ پن یا ہارمونی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

جوڑوں کا درد

آئرن کی زیادتی جوڑوں میں بھی اثر ڈالتی ہے، جس سے آرتھرائٹس جیسا درد ہو سکتا ہے۔

جلد میں تبدیلیاں

آئرن جمع ہونے سے جلد کا رنگ کانسی یا سیاہ نظر آنے لگتا ہے۔



[ad_2]

Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Grid News

Latest Post

انڈس آبزرور ایک خودمختار ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی تازہ ترین، مستند اور غیر جانبدار خبریں فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد سچائی پر مبنی صحافت کو فروغ دینا ہے تاکہ قارئین تک درست معلومات اور تجزیے بروقت پہنچ سکیں۔ ہم سیاست، بین الاقوامی امور، ایران۔اسرائیل جنگ، کاروبار، کھیل، صحت اور تفریح سمیت مختلف شعبوں پر خبریں فراہم کرتے ہیں۔ انڈس آبزرور سچائی کی آواز ہے جہاں ہر خبر ذمہ داری کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

سب سے زیادہ مقبول