جامشورو (ویب ڈیسک) HER-VOICERA نے 10 اکتوبر کو ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے کے موقع پر جامشورو میں ایک آگاہی تقریب کا انعقاد کیا، جس میں ماہرین نفسیات، تعلیمی شخصیات اور سماجی کارکنوں نے بچوں کی تربیت کی اہمیت، نوجوانوں کے ذہنی دباؤ، نفسیاتی صدمے اور صحت مند سماجی رویوں پر بات کی۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ذہنی صحت کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اور نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنے والے لوگوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اپنانا ضروری ہے۔ تقریب کی میزبانی HER-VOICERA کی چیئرپرسن طاہرہ جوئی نے کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمود مغل نے کہا کہ صحت کا مطلب صرف جسمانی بیماریوں سے پاک ہونا نہیں بلکہ اس میں ذہنی، سماجی، ماحولیاتی اور معاشی تندرستی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے یہ تمام پہلو آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور ایک فرد کی مجموعی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے بچوں کی شخصیت کی تشکیل میں والدین، اساتذہ، دوستوں اور سماجی ماحول کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو دوسروں کے سامنے نیچا دکھانے اور ان کا موازنہ کرنے سے ان کے اعتماد اور شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
علی اظہار نے کہا کہ بچوں کی بہتر پرورش کے لیے مادی سہولیات کے ساتھ ساتھ والدین کا وقت، پیار، توجہ اور جذباتی تعاون بھی ضروری ہے۔ بچوں کا دوسروں سے موازنہ کرنا اور ان پر غیر ضروری دباؤ ڈالنا ان کے خود اعتمادی اور ذہنی سکون کو متاثر کر سکتا ہے۔ کلینیکل سائیکالوجسٹ عرفان احمد نے کہا کہ تعلیمی مسابقت، بے روزگاری، مستقبل کے بارے میں بے یقینی اور تنہائی نوجوانوں کی ذہنی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کے مسائل کو غور سے سننے، ان کی حوصلہ افزائی کرنے اور ضرورت پڑنے پر ماہر نفسیات سے مدد لینے کی اہمیت پر زور دیا۔
نفسیاتی صدمے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ڈاکٹر پیر اسد عزیز نے کہا کہ ہر کوئی مشکل تجربات کا مختلف طریقوں سے مقابلہ کرتا ہے، اس لیے متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردی اور سمجھ بوجھ سے پیش آنا چاہیے۔
پروگرام میں راگ، رقص اور صوفی موسیقی پر مبنی پرفارمنس پیش کی گئی جبکہ گلوکار جبیں سومرو نے بھی شرکت کی۔ تقریب کے آخر میں ذہنی صحت کو مشترکہ سماجی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے بچوں اور نوجوانوں کی بہتر تعلیم، مثبت تعلقات اور نفسیاتی مسائل کے بارے میں آگاہی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔


