گمبٹ (نامہ نگار) قانون کے طالب علم غلام سجاد اُجّن کی تشدد زدہ لاش گاؤں لکھی اُجن کے تالاب سے ملی ہے۔
اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو تحویل میں لے کر اسپتال منتقل کردیا۔
ورثاء کا الزام ہے کہ غلام سجاد اجن کو قتل کرنے کے بعد لاش تالاب میں پھینک دی گئی۔
ورثاء کے مطابق غلام سجاد گزشتہ روز شاہ عبداللطیف یونیورسٹی میں ایک سیمینار میں شرکت کے لیے گئے تھے جہاں سے وہ واپس نہیں آئے۔ کافی تلاش کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا، جبکہ اس کی لاش آج ایک تالاب سے برآمد ہوئی۔
ورثاء کا کہنا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔
انہوں نے پولیس سے واقعے کی شفاف تحقیقات کرنے، قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔



