کراچی: (ویب ڈیسک) سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے ایچ آئی وی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے کمیٹی کو دو ماہ میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ کمیٹی میں گریڈ 20 کے دو سینئر افسران بھی شامل ہوں گے۔ کمیٹی متاثرہ بچوں کی اصل تعداد، ایچ آئی وی کی منتقلی کی وجوہات اور سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے معاملے کی تحقیقات کرے گی۔
عدالت نے حکم دیا کہ متاثرہ بچوں کو سندھ حکومت اور سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (SESSI) کی جانب سے مفت علاج فراہم کیا جائے، جب کہ چیف سیکریٹری کو متاثرہ بچوں اور ان کے اہل خانہ کی مالی امداد اور معاوضے کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔
فیصلے میں یہ بھی حکم دیا گیا کہ متاثرہ بچوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ کیا جائے اور ان کی رازداری برقرار رکھی جائے۔
دوسری جانب سماعت کے دوران بدتمیزی اور نعرے بازی پر درخواست گزار کے وکیل طارق منصور کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا۔ عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کو محفوظ رکھنے اور بدنظمی میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بھی ہدایت کی۔



