میہڑ: (رپورٹ: عبداللہ سومرو) میہڑ میں ایک روز قبل مبینہ طور پر اسکول سے اغوا ہونے والی تین طالبات فاطمہ جانوری، روشن تیونو اور تنزیلہ پنہور کو پولیس نے بازیاب کرالیا ہے، جب کہ ایک ملزم کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔
ایس ایس پی دادو صدام خاصخیلی کے مطابق پولیس کی خصوصی ٹیم نے لوکیشن ٹریسنگ، تکنیکی ذرائع اور ڈیٹا ریکارڈ کی مدد سے تینوں طالب علموں کو بازیاب کرایا۔ واقعے کے حوالے سے میہڑ کے بی سیکشن پولیس اسٹیشن میں طالبات کے اغوا کے الگ الگ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ ایک ہی روز میہڑ شہر سے تین سکول کی طالبات سمیت پانچ نوجوان خواتین پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئی تھیں۔ ان میں مدینہ کالونی کی آٹھویں جماعت کی طالبہ فاطمہ جانوری، بھٹہ محلہ کی تنزیلہ پنہور، علاقہ اخوند کی روشن تیونو جبکہ بسم اللہ کالونی کی دو سوتیلی بہنیں 20 سالہ لائبہ اور 18 سالہ رضیہ عرف بی بی بروہی بھی گھر سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہوگئیں۔
تینوں طالبات کی بازیابی کے بعد بھی لائبہ اور رضیہ عرف بی بی بروہی کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا، جبکہ پولیس ان کی تلاش اور واقعے کی مزید تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے۔
میہڑ سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی تین سکول کی طالبات کے معاملے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی ضلع دادو کے جنرل سیکرٹری، ایم پی اے اور سابق صوبائی وزیر فیاض علی بٹ نے ایس ایس پی دادو سے رابطہ کر کے پولیس کی کارکردگی کو سراہا۔
فیاض علی بٹ نے کہا کہ تینوں طلباء کی جلد اور بحفاظت بازیابی پولیس کی موثر کارروائی کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں کی جان، مال اور عزت کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، لہٰذا اس واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بغیر کسی رعایت کے سخت کارروائی کی جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔


